ملتان: بند کمرے میں کھلی کچہری، عوام باہر، افسران اندر، جعلی سائلین پیش، میڈیا بین-ملتان: بند کمرے میں کھلی کچہری، عوام باہر، افسران اندر، جعلی سائلین پیش، میڈیا بین-لال سونہارا پارک میں ہولناک آگ بےقابو، قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات شدید متاثر-لال سونہارا پارک میں ہولناک آگ بےقابو، قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات شدید متاثر-گلبرگ ایگزیکٹو فراڈ، ایم پی اے غلام اصغر گورمانی سمیت ملزموں کی جائیدادیں منجمد-گلبرگ ایگزیکٹو فراڈ، ایم پی اے غلام اصغر گورمانی سمیت ملزموں کی جائیدادیں منجمد-تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو ریلیف دینے کا مقصد، کئی شعبوں کو بجٹ میں سہولتیں دی گئیں: وزیر خزانہ-تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو ریلیف دینے کا مقصد، کئی شعبوں کو بجٹ میں سہولتیں دی گئیں: وزیر خزانہ-سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کا فلم ‘کالا ہرن’ کے خلاف نوٹس جاری-سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کا فلم ‘کالا ہرن’ کے خلاف نوٹس جاری

تازہ ترین

یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش کے لیے 30 ارب روپے کا مالی پیکیج منظور

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے بندش کے عمل کو منظم اور شفاف انداز میں آگے بڑھانے کے لیے 30.216 ارب روپے کے مالی پیکیج کی منظوری دی ہے۔
اس میں سے 25 ارب روپے ملازمین کی برطرفی کے لیے گولڈن ہینڈ شیک کی صورت میں اور باقی 5 ارب روپے واجبات، تنخواہوں اور عارضی طور پر برقرار 832 ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں ایک سال کے اندر فارغ کر دیا جائے گا۔
اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت ہوا جس میں وزرائے خوراک، تجارت، توانائی، معاون خصوصی صنعت و پیداوار اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ ای سی سی نے ملازمین کے واجبات، گریجویٹی اور مراعات کی ادائیگی یقینی بنانے کے علاوہ کارپوریشن کی منظم بندش کے لیے فنڈنگ پلان بھی منظور کیا۔
یوٹیلٹی اسٹورز کے اثاثے اور جائیدادیں رواں مالی سال فروخت کی جائیں گی اور حاصل رقم بندش کے اخراجات پر استعمال ہوگی۔ وزارت صنعت و پیداوار کو مالی ضروریات کم کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور مالی نظم و ضبط پر پرعزم ہے اور بندش کا عمل شفاف اور منظم ہوگا۔
یہ اقدام ملک بھر میں نصف صدی تک غریب عوام کو سبسڈی پر اشیائے خوردونوش فراہم کرنے والے ادارے کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔ 1971 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ 5,600 آؤٹ لیٹس کے ذریعے شہریوں کو بنیادی اشیائے ضرورت رعایتی نرخوں پر فراہم کرتا رہا ہے، مگر برسوں کی بدانتظامی اور بڑھتے مالی نقصان کے باعث حکومت نے اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا۔
ای سی سی کو بتایا گیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں یو ایس سی کا نیٹ ورک 1,023 سے بڑھا کر 5,557 سٹورز اور عملہ 3,892 سے بڑھا کر 12,749 تک پہنچ گیا تھا۔ موجودہ حکومت نے سالانہ 2 ارب روپے کے خسارے کے پیش نظر ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم اور ملازمین کو واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں