جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار

تازہ ترین

گلگت بلتستان انتخابات 2026: خواتین ووٹرز فیصلہ کن کردار میں، کئی حلقوں میں مقابلہ انتہائی سخت

گلگت: گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے، جہاں کئی حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد کا معمولی فرق بھی انتخابی نتائج کو براہِ راست متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں کو ایسے اہم حلقے قرار دیا جا رہا ہے جہاں خواتین ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
دیامر-1 کو سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز تقریباً برابر ہیں۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز 22 ہزار 257 ہیں، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا انتہائی معمولی فرق موجود ہے۔
اسی طرح گلگت-2 میں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین ووٹرز کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ریکارڈ کی گئی ہے۔
انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 وہ اہم حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہیں۔
دوسری جانب اس انتخابی عمل میں خواتین امیدواروں کی شمولیت بھی نمایاں ہے، جہاں 8 خواتین مختلف حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جو سیاسی میدان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں