ملتان(سٹاف رپورٹر) ز کر یا یونیورسٹی کے فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر احسان قادر کی جنسی ہراسمنٹ کا شکار یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر شازیہ کو اپنے طلاق نامے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا کیونکہ تھانہ ڈی ایچ اے میں بھی پولیس کے روبرو ڈاکٹر احسان قادر کا یہی اعتراف تھا کہ ڈاکٹر شازیہ ان کی اہلیہ ہیں اور میاں بیوی کے درمیان معمولی جھگڑا ہوا ہے جبکہ ڈاکٹر شازیہ کا موقف تھا کہ انہیں صرف ایک مرتبہ زبانی طلاق دی گئی ہے اور شرع کے مطابق دو طلاقیں باقی ہیں۔ یہ بات ڈاکٹر شازیہ کے علم میں نہیں تھی کہ ڈاکٹر بھابھہ سوا سال قبل طلاق رجسٹر بھی کروا چکے ہیں۔ دوسری طرف زنا کاری کے الزام میں گرفتار ہونے اور پھر ضمانت پر رہا ہونے والے زکریا یونیورسٹی کے فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ کو یونیورسٹی میں بھنگڑوں اور پھولوں کے ہاروں سے لاد کر لایا گیا۔ ادھر ادھر سے بلوائے گئے نوجوانوں سے بھابھہ تیرے جاں نثار ،بے شمار بے شمار اور آیا آیا بھا بھہ آیا، ڈاکٹر احسان قادر بھابھہ زندہ باد کے نعرے لگوا کر اخلاقی اقدار کی پامالی اور ڈھٹائی کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی گئی۔ روزنامہ قوم کو ڈاکٹر بھابھہ کی طرف سے زیادتی کا شکار اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ افضل کے انتہائی قریبی ذرائع سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق پولیس نے دباؤ کے تحت اس کیس کو بھی برباد کر دیا گیا ہے اور تفتیشی آفیسر نے اپنی رپورٹ ڈاکٹر بھابھہ کے حق میں لکھی جبکہ دوسری طرف ڈاکٹر شازیہ افضل کو ڈی ایچ اے پولیس نے سہ پہر تین بجے سے رات 12 بجے تک میڈیکل کرانے کے انتظار میں بٹھائے رکھا اور جب تک میڈیکولیگل ٹیم مینج نہیں ہوئی، انہیں میڈیکل کے لیے نہ لے جایا گیا پھر جب ڈیوٹی تبدیل ہوئی اور معاملات طے پا گئے تو رات 12 بجے ڈاکٹر شازیہ کو پولیس کی نگرانی میں میڈیکل رپورٹ بنوانے کے لیے لے جایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر احسان قادر اور ڈاکٹر شازیہ دونوں کے جسموں پر زخموں اور ناخنوں کی کھروچ کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ افضل کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں اس وقوعہ سے دو روز قبل علم ہو چکا تھا کہ ڈاکٹر احسان قادر نے انہیں دی ہوئی جھوٹی طلاق کو سوا سال قبل ہی رجسٹرڈ کرا لیا تھا مگر اسے علم ہی نہ ہونے دیا اور انہیں اس کا علم 23 ستمبر کو ہوا اور پھر دونوں کے درمیان تلخی ہوئی جو ہاتھا پائی اور زنا کاری تک پہنچ گئی۔ اس وقت اپنے کمرے میں ڈاکٹر احسان بھابھہ ایک اور طالبہ کو ورغلا رہے تھے اور طالبہ جس کا نام لکھنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں، ڈاکٹر بھابھہ کے کمرے میں موجود تھی اور ڈاکٹر بھابھہ اسے یقین دہانی کرا رہے تھے کہ وہ کنٹرولر سے امتحانی پرچے واپس منگوا کر اس کا رزلٹ تبدیل کرا دیں گے اور اس حوالے سے ایک تحریر شدہ درخواست بھی ڈاکٹر بھابھہ کی میز پر موجود تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر بھابھہ رزلٹ تبدیل کرانے، فیل کو پاس اور پاس کو فیل کرانے، نمبروں میں ہیر پھیر کرنے کے حوالے سے فیصل آباد میں بھی بہت بدنام تھے مگر جب زکریا یونیورسٹی میں انہیں شعبے کی سربراہی مل گئی تو وہ کھل کر کھیلنے لگے۔ ڈاکٹر شازیہ نے طالبہ سے کہا کہ آپ ان کے چکروں میں نہ آؤ اور جا کر پڑھائی کی طرف توجہ دو جس پر ڈاکٹر بھابھہ نے ڈاکٹر شازیہ سے بدتمیزی شروع کر دی تو ڈاکٹر شازیہ نے مذکورہ طالبہ سے کہا کہ وہ کمرے سے باہر چلی جائے جس پر ڈاکٹر احسان بھا بھہ نے اندر سے کنڈی بند کرکے ڈاکٹر شازیہ پر تشدد شروع کر دیا جس پر ڈاکٹر شازیہ نے بھی مزاحمت کی جن کے ناخنوں کی نشانات ڈاکٹر بھابھہ کے ہاتھوں اور گردن پر بھی لگے۔ ڈاکٹر شازیہ نے ڈاکٹر احسان سوال کیا کہ اس لڑکی میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ آپ اس کے سامنے ہی آپے سے باہر ہو گئے جس پر یہ سارا واقعہ ہوا۔ اس سوال پر کہ شور سن کر لوگ کیوں نہیں ان کے کمرے کی طرف گئے، ڈیپارٹمنٹ ہی کے ایک رکن نے بتایا کہ اونچی آواز میں بولنا ،گالیاں دینا اور چیخنا چلانا ڈاکٹر بھابھہ کا معمول ہے اور ان کے کمرے سے ایسی آوازیں آتی ہی رہتی ہیں جس پر کوئی بھی نوٹس نہیں لیتا کہ وہ یونیورسٹی میں بہت ہی زیادہ بدتمیز ٹیچر مانے جاتے ہیں اور اوپر سے سابق وی سی ڈاکٹر کنڈی کی شہ نے ان کی بدتمیزی کو چار چاند لگا دیئے تھے۔ اسی طاقت کے نشے میں انہوں نے اندر سے کنڈی لگا کر نہ صرف ڈاکٹر شازیہ پر تشدد کیا بلکہ دفتر ہی کے کمرے میں ان کی عزت تار تار کر دی کیونکہ طلاق ہو چکی تھی اس لئے ڈاکٹر بھابھہ کے خلاف زنا کاری کا مقدمہ درج ہوا اور ان کی گرفتاری ہوئی۔
شواہد محفوظ رکھنےکیلئے ڈاکٹربھابھہ کا کمرہ سیل، ایک اورجھوٹ پکڑاگیا
ملتان (سٹاف رپورٹر) زکریا یو نیو ر سٹی انتظامیہ نے ڈاکٹر احسان بھابھہ کے خلاف زنا کاری کے مقدمے کی تفتیش کی غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے فاریسٹری ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر بھابھہ کے کمرے کو سیل کرا دیا کیونکہ ابھی بھی بہت سے ثبوت ان کے کمرے میں موجود ہیںجہاں یہ واقعہ رونما ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس کے روبرو دوران تفتیش ڈاکٹر احسان نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے کمرے میں تو اندر سے کنڈی ہی نہیں ہے اور صرف باہر سے دروازہ لاک ہو سکتا ہےلہٰذاوہ اندر سے کنڈی کیسے بند کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس دفتر میں جو کچھ بھی ہوا اس کے ثبوت محفوظ رکھے جانے کے لیے یونیورسٹی کا یہ اقدام قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہے اور ویسے بھی ڈاکٹر احسان قادر تو یونیورسٹی سے معطل کر دیئے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر شازیہ افضل کی اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ ڈاکٹر بھابھہ کے کمرے میں اندر کی طرف چٹخنی لگی ہوئی ہے اور ڈاکٹر بھابھہ نے پولیس کے روبرو جھوٹ بولا۔








