Post Views: 174
پنجاب میں گندم کے گردشی قرضے میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ محکمہ فوڈ کی غفلت قرار دی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ 2024-25 کے مطابق محکمہ فوڈ کئی مالی سالوں میں گندم کی خرید و فروخت کے لیے درست تخمینہ لگانے اور مؤثر پالیسی تشکیل دینے میں ناکام رہا۔ اس ناکامی کے باعث صارفین اور حکومت کو مجموعی طور پر 15.88 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کو نظرانداز کرنے، قیمتوں میں غیر متوازن اضافے اور نکاسی کے تناسب میں تبدیلی کے باعث اخراجات بڑھتے گئے جس نے مالی دباؤ میں اضافہ کیا۔
مزید کہا گیا کہ محکمہ فوڈ کی یہی خامی مالی سال 2018-19، 2019-20 اور 2022-23 کی آڈٹ رپورٹس میں بھی نمایاں کی گئی تھی، لیکن اس پر کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔







