لاہور: ملک میں مزید بارشوں کے امکانات کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک میں موسم کی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے، جو سردیوں کے آغاز کا عندیہ ہے۔ ان کے مطابق آئندہ چند روز میں پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشیں متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج صوبے کے کئی اضلاع میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے، جب کہ 5 اکتوبر سے لاہور اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں زیادہ بارشیں ہونے کا امکان ہے۔ کل جنوبی پنجاب میں بھی بارش کی پیش گوئی ہے، جب کہ شمالی علاقوں میں بارش کی مقدار 70 ملی میٹر تک جا سکتی ہے۔
عرفان کاٹھیا نے مزید بتایا کہ حالیہ سیلاب سے پنجاب کے 27 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت ہیڈ مرالہ پر 20 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، جب کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں بھارت سے ایک لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق مرالہ کے مقام پر اس وقت 23 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، تاہم 26 اگست کو یہاں سے 9 لاکھ کیوسک پانی گزر چکا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح بلند ضرور ہے لیکن جہلم میں بڑے سیلاب کے آثار نظر نہیں آ رہے، البتہ ستلج میں بھارت سے 50 ہزار کیوسک اور تھین ڈیم سے راوی میں 35 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ 27 اضلاع میں سروے جاری ہے، جس میں ساڑھے 11 ہزار افراد حصہ لے رہے ہیں۔ ان ٹیموں میں پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور دیگر محکمے شامل ہیں۔ کل 2 ہزار 213 ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔
مزید برآں، ایک آن لائن ڈیش بورڈ کے ذریعے سروے کی مانیٹرنگ بھی ہو رہی ہے، اور 27 اکتوبر تک تمام 69 تحصیلوں میں سروے مکمل کرلیا جائے گا۔
عرفان کاٹھیا کے مطابق متاثرین کے لیے بینک آف پنجاب کے بوتھ قائم کیے جائیں گے تاکہ امدادی رقم جلد از جلد فراہم کی جا سکے۔ ہر متاثرہ خاندان کو کارڈ ملنے کے بعد 50 ہزار روپے فوری نکلوانے کی سہولت دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی متاثرین کی مالی مدد کی گئی تھی، مثلاً 2010 میں 3 لاکھ 50 ہزار، 2012 میں 38 ہزار، 2014 میں 3 لاکھ 59 ہزار افراد کو اربوں روپے دیے گئے، جب کہ 2022 میں بھی ہزاروں متاثرین کو مالی تعاون فراہم کیا گیا۔ گزشتہ 15 برس میں مجموعی طور پر 51 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ 2025 کا حالیہ سیلاب گزشتہ برسوں کے تمام سیلابوں کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے، جس سے فصلوں، گھروں، مویشیوں اور انسانی جانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔







