پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق کی کمی، افغانستان پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے آگے
Post Views:163
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے مگر اس پر عمل درآمد کی کمی ہے، جب کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ پولیو کا خاتمہ کریں۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان کے صحت کے مسائل کا حل ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے استعمال میں ہے، جبکہ بڑے ہسپتال 70 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی کمی ہے۔ مصطفی کمال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اب اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بننے جا رہا ہے اور اسلام آباد جا کر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈز کی رپورٹس منگوا کر اس پر عمل درآمد کرائیں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت صحت اور تعلیم کے ادارے عوام کا درد کم کرنے کی بجائے بڑھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، کیونکہ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ کی قیادت میں اس کا انتظام ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ چھٹی انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس کراچی کے اڈیٹوریم میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت اسلام آباد اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں کے حکام شریک ہیں۔
تازہ ترین
بلاول! کشمیر کو کشمور نہ سمجھنا: نواز شریف، پہلے بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی؟ شرجیل میمن
فوڈ پوائزن یا واٹر پوائزن؟ حاصل پور میں ایک گلی کے تین بچوں کی پراسرار موت، 3 متاثر
بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردی، بھتہ خوری تیز،عوام خوفزدہ، انسانی حقوق کے دعویدار خاموش
آن لائن بزنس کے نام پر پاکستانیوں سے اربوں کا فراڈ، ملتان کا شہری 31 کروڑسے محروم
عید بونس ملا نہ تنخواہیں، ایچ آر کا رویہ بھی نا قابل برداشت، سُتھرا پنجاب ورکرز کا احتجاج
پہلا ٹیسٹ: پاکستان کا 7 اسپیشلسٹ بیٹرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا امکان
جارحانہ رویہ ٹرمپ کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گا، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق کی کمی، افغانستان پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے آگے
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے مگر اس پر عمل درآمد کی کمی ہے، جب کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ پولیو کا خاتمہ کریں۔
وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان کے صحت کے مسائل کا حل ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے استعمال میں ہے، جبکہ بڑے ہسپتال 70 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی کمی ہے۔
مصطفی کمال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اب اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بننے جا رہا ہے اور اسلام آباد جا کر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈز کی رپورٹس منگوا کر اس پر عمل درآمد کرائیں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت صحت اور تعلیم کے ادارے عوام کا درد کم کرنے کی بجائے بڑھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، کیونکہ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ کی قیادت میں اس کا انتظام ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ چھٹی انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس کراچی کے اڈیٹوریم میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت اسلام آباد اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں کے حکام شریک ہیں۔
شیئر کریں
:مزید خبریں
بلاول! کشمیر کو کشمور نہ سمجھنا: نواز شریف، پہلے بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی؟ شرجیل میمن
فوڈ پوائزن یا واٹر پوائزن؟ حاصل پور میں ایک گلی کے تین بچوں کی پراسرار موت، 3 متاثر
بلوچستان میں بی ایل اے دہشتگردی، بھتہ خوری تیز،عوام خوفزدہ، انسانی حقوق کے دعویدار خاموش
آن لائن بزنس کے نام پر پاکستانیوں سے اربوں کا فراڈ، ملتان کا شہری 31 کروڑسے محروم
عید بونس ملا نہ تنخواہیں، ایچ آر کا رویہ بھی نا قابل برداشت، سُتھرا پنجاب ورکرز کا احتجاج
پہلا ٹیسٹ: پاکستان کا 7 اسپیشلسٹ بیٹرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا امکان