پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق کی کمی، افغانستان پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے آگے
Post Views:169
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے مگر اس پر عمل درآمد کی کمی ہے، جب کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ پولیو کا خاتمہ کریں۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان کے صحت کے مسائل کا حل ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے استعمال میں ہے، جبکہ بڑے ہسپتال 70 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی کمی ہے۔ مصطفی کمال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اب اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بننے جا رہا ہے اور اسلام آباد جا کر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈز کی رپورٹس منگوا کر اس پر عمل درآمد کرائیں گے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت صحت اور تعلیم کے ادارے عوام کا درد کم کرنے کی بجائے بڑھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، کیونکہ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ کی قیادت میں اس کا انتظام ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ چھٹی انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس کراچی کے اڈیٹوریم میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت اسلام آباد اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں کے حکام شریک ہیں۔
تازہ ترین
ستھرا پنجاب کرپشن کیسز کو اچانک بریک، گرفتار افسران کو ریلیف کا امکان
رحیم یار خان: برسوں سے فائلیں زیر التوا، 500 سے زائد نجی سکول غیر رجسٹرد نکلے
19 ارب کا ٹینڈر منسوخ، پنجاب کے تدریسی ہسپتالوں میں علاج معطل ، مریض خوار
جہانیاں میں سیاسی ہلچل، افتخار نزیر اور ضیاء الرحمٰن کی پیپلز پارٹی میں شمولیت زیر بحث
گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال، برآمدی شعبے کو 450 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ
حکومت نے ڈیلرز کو ریلیف دے کر عوام پر بوجھ ڈال دیا
پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو 2 ارب ڈالر سے زائد نقصان کا دعویٰ
حکومت کا درآمد شدہ چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ
پاکستان میں صحت کے شعبے میں تحقیق کی کمی، افغانستان پولیو کے خاتمے میں پاکستان سے آگے
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں بہت تحقیق ہو رہی ہے مگر اس پر عمل درآمد کی کمی ہے، جب کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے بہتر کوششیں کر رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کراچی میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان ایک ساتھ پولیو کا خاتمہ کریں۔
وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان کے صحت کے مسائل کا حل ٹیکنالوجی اور موبائل فون کے استعمال میں ہے، جبکہ بڑے ہسپتال 70 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی کمی ہے۔
مصطفی کمال نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر اب اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر بننے جا رہا ہے اور اسلام آباد جا کر ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈز کی رپورٹس منگوا کر اس پر عمل درآمد کرائیں گے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزارت صحت اور تعلیم کے ادارے عوام کا درد کم کرنے کی بجائے بڑھا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فارماسوٹیکل انڈسٹری اب محفوظ ہاتھوں میں ہے، کیونکہ سی ای او ڈریپ ڈاکٹر عبید اللہ کی قیادت میں اس کا انتظام ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ چھٹی انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس کراچی کے اڈیٹوریم میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ڈریپ، قومی ادارہ صحت اسلام آباد اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں کے حکام شریک ہیں۔
شیئر کریں
:مزید خبریں
ستھرا پنجاب کرپشن کیسز کو اچانک بریک، گرفتار افسران کو ریلیف کا امکان
رحیم یار خان: برسوں سے فائلیں زیر التوا، 500 سے زائد نجی سکول غیر رجسٹرد نکلے
19 ارب کا ٹینڈر منسوخ، پنجاب کے تدریسی ہسپتالوں میں علاج معطل ، مریض خوار
جہانیاں میں سیاسی ہلچل، افتخار نزیر اور ضیاء الرحمٰن کی پیپلز پارٹی میں شمولیت زیر بحث
گڈز ٹرانسپورٹ ہڑتال، برآمدی شعبے کو 450 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ
حکومت نے ڈیلرز کو ریلیف دے کر عوام پر بوجھ ڈال دیا