جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار

تازہ ترین

ٹرمپ کا ایران مذاکرات اور جنگ بندی کے ٹائم فریم کی خبروں کی سختی سے تردید

امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی یا مذاکرات کے حوالے سے سامنے آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ اس عمل کے لیے تین سے پانچ دن کا کوئی مخصوص ٹائم فریم طے کیا گیا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ نہ تو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی نئی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی حتمی مدت طے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع پر پھیلنے والی یہ خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ وہ آئندہ مڈٹرم انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق اس قسم کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران پر دباؤ میں اضافہ اس وقت زیادہ تر آبنائے ہرمز میں جاری حکمت عملی کے باعث ہو رہا ہے، اور ان کے مطابق ایران کو بمباری کے بجائے اس سمندری ناکہ بندی سے زیادہ تشویش لاحق ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ Donald Trump نے مبینہ طور پر پاکستان کی قیادت، بشمول Shehbaz Sharif اور Asim Munir کی درخواست پر ایران پر کچھ حملے روکنے اور جنگ بندی کے دائرہ کار میں نرمی کا اعلان کیا تھا، تاہم ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں امریکی حکمت عملی کو برقرار رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی تھی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں