وزیراعلیٰ کادورہ، سخت سکیورٹی، ملنا تک گوارہ نہ کیا: سیلاب متاثرین کا شکوہ

اوچشریف ( نمائندہ قوم) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دورہ مایوس کن، سیلاب متاثرین سے ملنا تک گوارا نہ کیا، پولیس انتظامیہ کی جانب سے سخت سکیورٹی انتظامات، علاقہ نو گو ایریا بنا رہا، امداد کے منتظر عوام گھنٹوں انتظار کے بعد منہ تکتے رہ گئے، فوٹو سیشن کے بعد علامتی ملاقات کرکے روانہ ہوگئیں، متاثرین پھٹ پڑے۔ تفصیل کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے بلہ جھلن حفاظتی بند کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق نے وزیر اعلی پنجاب کو سیلاب متاثرین کیلئے کئے گئے انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے فلڈ ریلیف کیمپ میں مقیم چند ایک مرد و خواتین سے بات چیت کی اور انکو تحائف بھی پیش کئے، انہوں نے اوچ شریف کے نواحی مواضعات میں سیلاب زدہ علاقوں کا مختصر فضائی دورہ بھی کیا، مریم نواز نے کوئی تقریر کی اور نہ ہی متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مقامی میڈیا نمائندگان سے بھی کوئی بات نہیں کی، باوثوق ذرائع کے مطابق موجودہ سیلاب نے اوچ شریف کے تقریباً 36 مواضعات کو شدید متاثر کیا ہے، حکومت کی جانب سے ریلیف کے نام پر صرف زبانی جمع خرچ اور مقامی و ضلعی انتظامیہ نے محدود سطح پر ناکافی انتظامات کیے، ابھی بھی بڑی تعداد سیلاب متاثرین کی تاحال کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار امداد کی راہ تک رہے ہیںجبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا دورہ بھی انکی امیدوں پر پانی پھیر گیا، کسان اتحاد کے صدر راؤ فاروق نے متاثرین کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو چاہیے تھا کہ سیلاب متاثرین کے ساتھ ملاقات کرکے انکے مسائل سنے جاتے اور انکے حل بارے عملی اقدامات کئے جاتے مگر یہاں پر تو سب سے پہلے متاثرین ہی کو سائیڈ لائن کردیا گیا جو کہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔سیلاب متاثرین کو امداد تو نہ ملی اور نہ ہی متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا جا سکا، خواتین شکوہ اور احتجاج کرتی نظر آئیں، البتہ مذکورہ دورہ پر حکومتی مشینری اور اداروں کی نقل و حرکت بارے خطیر اخراجات کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں