ملتان (وقائع نگار) لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ ملتان میں یونین کونسلوں کے لیے پینافلیکس اور ہورڈنگ بورڈز کی تیاری میں لاکھوں روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ بورڈز اور پینافلکس کم قیمت پر تیار کروائے گئے تھے، لیکن افسران نے زیادہ رقم کے بل پاس کرکے سرکاری خزانے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس معاملے پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان حلیمہ سعدیہ کا تبادلہ کر دیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان حلیمہ سعدیہ نے سیکرٹری یونین کونسل خلیل ثاقب کو بورڈ اور پینا فلیکس بنانے کا ٹھیکہ دیا ملتان شہر کی 68 یونین کونسلوں کے لیے پینا فلیکس ،شکایات بکس اور بورڈ بنوانے گے پینا فلیکس جو بنوائے گئے اس کی فی کس قیمت چھ ہزار روپے تھی اور جو شکایت بکس بنوائے گئے ان کی قیمت 1800 روپے تھی مگر فی یونین کونسل 50250 روپے کے بل بنائے گئے جس میں سے 9045 روپے کی ایس ٹی اور 2764 روپے انکم ٹیکس کی کٹوتی کرتے ہوئے 38441 روپے کے بل پاس کیے گئے اسی طرح جو بورڈ بنوائے گئے اس کی مارکیٹ میں قیمت 14000 روپے ہے مگر اس کے 55000 ہزار روپے فی یونین کونسل کے بل بنائے گئے جس میں سے 9900روپے کی ایس ٹی اور 3025 روپے انکم ٹیکس کٹوتی کر کے 42075 روپے کا فی یونین کونسل بل پاس کیا گیا اس طرح سیکرٹری یونین کونسل خلیل ثاقب اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر حلیمہ سعدیہ نے لاکھوں روپے کی مبینہ طور پر کرپشن کی جس پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نے کاروائی کرتے ہوئے حلیمہ سعدیہ کا تبادلہ کر دیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کرپشن یونین کونسلوں کے لیے عوامی آگاہی اور پروموشنل مواد کی تیاری کے دوران سامنے آئی۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ پینافلکس اور ہورڈنگ بورڈز کی اصل لاگت بہت کم تھی، مگر افسران نے جعلی بلز جمع کروا کر لاکھوں روپے کی ادائیگیاں حاصل کیں۔ اس معاملے کی شکایات موصول ہونے پر اعلیٰ افسران نے نوٹس لیا اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق حلیمہ سعدیہ کو ملتان شہر سے فوری طور پر جلالپور پیر والہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ تبادلہ کرپشن کی ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں کیا گیا ہے، تاکہ مزید انکوائری شفاف طریقے سے ہو سکے۔ لوکل گورنمنٹ کے دیگر افسران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ڈیپارٹمنٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم قدم ہے۔لوکل گورنمنٹ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ “یہ صرف ایک کیس نہیں، بلکہ ایسے کئی معاملات سامنے آ رہے ہیں جہاں سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو آئندہ چند دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔







