خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-خانیوال: ستھرا پنجاب ورکرز کی تنخواہ پر ہاتھ صاف، خصوصی اعزازیہ نہ سوشل سکیورٹی سہولتیں-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-پنجاب: زمینوں پر قبضوں کیخلاف کل سے ٹریبونلز کاروائیاں، پچھلے نوٹیفکیشنز منسوخ-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-منتخب کون سفارش کردہ کون؟ ملتان سمیت 8 تعلیمی بورڈز کیلئے چیئرمینوں کی مبینہ فہرست لیک-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-سوزش، گیس اور بڑھتے وزن سے پریشان؟ سونف، زیرہ اور اجوائن کا پانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا-دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو بڑا دھچکا، ٹریلینئر کا اعزاز برقرار نہ رہ سکا

تازہ ترین

معروف سیٹ ڈیزائنر مالک سندھی کا واپڈا کے خلاف انوکھا احتجاج

ملتان( نمائندہ قوم )معروف سیٹ ڈیزائنر مالک سندھی کا واپڈا کے خلاف انوکھا احتجاج ۔200 سے اوپر تبدیل ہونے والے سلیب اور چھ ماہ تک اس کی سزا کے خلاف مالک سندھی نے بجلی کے بلوں کا لباس زیب تن کر کے منہ کی تالا بندی کر لی ۔اس انوکھے احتجاج کا مقصد کالے قانون کے خلاف آواز اٹھانا ہے جس میں بجلی صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹگری سے نکلنے پر ایک جرم کی چھ بار سزا بھگتنا پڑتی ہے ۔ ایک صارف کے گھر کسی غمی خوشی کی صورت میں اگر بجلی کا زیادہ استعمال ہو گیا اور اس نے 200 سے زیادہ یونٹ استعمال کر لیے تو اس کا بل اڑھائی تین ہزار سے بڑھ کر 8 ہزار تک پہنچ جائے گا چاہے اس نے 200 سے صرف ایک یونٹ زائد استعمال کیا ہو اور اس کے بعد بات یہاں ختم نہیں ہوتی اور صارف کو اس سلیب کا ریٹ اگلے چھ ماہ بھی بھگتنا پڑے گا اس کالے قانون کے خلاف مالک سندھی نے کہا ہے کہ یہ کاروبار کے عین مخالف پالیسی ہے کاروباری لوگ زیادہ اشیاء خریدنے پر رعایت دیتے ہیں جبکہ یہاں بجلی کا محکمہ الٹا جرمانہ کر دیتا ہے یہ پالیسی عوام کو مارنے کے مترادف ہے خدارا اعلی حکام اس کالے قانون کے خلاف کاروائی کریں اور اس گورکھ دھندے کو بند کروائیں ۔عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں شدید پریشان ہے اوپر سے واپڈا کے اس کالے قانون نے غریب کا جینا مشکل کر دیا ہے بجلی کے بلوں پر ایسے ایسے ٹیکس لگا دئیے گئے ہیں جن کا اب انہیں نام بھی نہیں ملتا ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں