ملتان: بند کمرے میں کھلی کچہری، عوام باہر، افسران اندر، جعلی سائلین پیش، میڈیا بین-ملتان: بند کمرے میں کھلی کچہری، عوام باہر، افسران اندر، جعلی سائلین پیش، میڈیا بین-لال سونہارا پارک میں ہولناک آگ بےقابو، قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات شدید متاثر-لال سونہارا پارک میں ہولناک آگ بےقابو، قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات شدید متاثر-گلبرگ ایگزیکٹو فراڈ، ایم پی اے غلام اصغر گورمانی سمیت ملزموں کی جائیدادیں منجمد-گلبرگ ایگزیکٹو فراڈ، ایم پی اے غلام اصغر گورمانی سمیت ملزموں کی جائیدادیں منجمد-تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو ریلیف دینے کا مقصد، کئی شعبوں کو بجٹ میں سہولتیں دی گئیں: وزیر خزانہ-تنخواہ دار طبقے کے نچلے حصے کو ریلیف دینے کا مقصد، کئی شعبوں کو بجٹ میں سہولتیں دی گئیں: وزیر خزانہ-سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کا فلم ‘کالا ہرن’ کے خلاف نوٹس جاری-سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کا فلم ‘کالا ہرن’ کے خلاف نوٹس جاری

تازہ ترین

روزنامہ قوم کی خبر پر بڑا فیصلہ، علیشبہ زیادتی کیس میں تین اہم پولیس اہلکاروں کے خلاف فیصلہ کن ایکشن

روزنامہ قو م کی خبر پر بالآخر بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔ ڈی پی او بہاولپور نے علیشبہ زیادتی کیس میں مبینہ غفلت، غیراخلاقی رویے اور ملزمان کو سہولت دینے کے سنگین الزامات پر سخت محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے تین اہم پولیس اہلکاروں کے خلاف فیصلہ کن ایکشن لے لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ڈی پی او بہاولپور نے ایس ایچ او تھانہ کینٹ سہیل قاسم کو سروس سے برخاست (ڈسمس فرام سروس) کر دیا ہے، جبکہ کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر رانا عقیل کو جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ محرر تھانہ کینٹ کو بھی ریولڈ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی علیشبہ زیادتی کیس میں سنگین غفلت، ناقص تفتیش، اور مبینہ طور پر ملزم کو فائدہ پہنچانے کی کوششوں کے الزامات ثابت ہونے پر کی گئی۔ ڈی پی او نے واضح کیا کہ محکمہ پولیس میں غفلت، بددیانتی یا کسی بھی قسم کی سہولت کاری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا تھا جب روزنامہ قوم نے اپنی خصوصی خبر میں علیشبہ زیادتی کیس میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور پولیس رویے پر سوال اٹھائے تھے، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا تھا۔
ڈی پی او کے اس فیصلے کو شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں نے جرأت مندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ اس نوعیت کے حساس کیسز میں انصاف میں تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی،

شیئر کریں

:مزید خبریں