10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-10 سی سی سرنج پر پابندی پر ماہرین کا تحفظات کا اظہار، نومولود بچوں کے علاج پر منفی اثرات کا خدشہ-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-امریکی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت پر عباس عراقچی کا سخت ردعمل، "خون رائیگاں نہیں جائے گا"-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے چین سے 16.2 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کیے، ہدف مکمل نہ ہو سکا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-ایرانی میڈیا کا دعویٰ، سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل حملہ، سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا طالبات کے لیے بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ

تازہ ترین

حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی میں اضافے سے عوام کو مہنگائی کا دھچکا

اسلام آباد: آنے والے مالی سال میں حکومت کی جانب سے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈالنے کا خدشہ ہے، کیونکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں تاریخی سطح تک اضافے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت نے 2025-26 کے بجٹ میں پٹرولیم لیوی کی وصولیوں کو 1,311 ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز دی ہے، جو کہ موجودہ مالی سال کے ہدف (1,117 ارب روپے) سے 194 ارب روپے زائد ہے۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک پٹرولیم لیوی کے تحت 833 ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کی جا چکی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال 2023-24 میں اس مد میں کل 1,019 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔ اس سے قبل مالی سال 2022-23 میں یہ وصولی 580 ارب روپے رہی تھی۔
حکومت کی تجویز کے مطابق اگلے مالی سال میں پٹرولیم لیوی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی۔ اس وقت بھی فی لیٹر پٹرول پر 78 روپے 2 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 77 روپے 1 پیسہ لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ اضافی لیوی کا براہِ راست اثر عوام پر پڑے گا، کیونکہ اس سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کی نئی لہر کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت ریونیو میں اضافے کے لیے اس اقدام کو ضروری سمجھتی ہے، تاہم اس سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں