جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-جہاں اسمبلیاں فروخت ہوتی ہوں وہاں عوام کے مسائل نہیں ہوسکتے، غیر جانبدار انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں، محمود خان اچکزئی-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-منشیات کیسز: انمول عرف پنکی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-بجٹ اہداف پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری، ٹیکس وصولیوں پر اتفاق نہ ہو سکا-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، ملکی توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار-حکومت کی توجہ انسانی ترقی پر مرکوز، صحت، تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بہتری ترجیح قرار

تازہ ترین

بجٹ 2026-27: رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو متحرک کرنے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد 4.5 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی سفارش بھی زیر غور ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پالیسی تبدیلی کا مقصد پراپرٹی مارکیٹ کو دوبارہ فعال کرنا اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لانا ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق ان تجاویز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جہاں اس پالیسی پر کچھ تحفظات سامنے آئے ہیں۔
حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بہتری آئے گی بلکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور روزگار میں بھی اضافہ ہوگا۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے مجموعی طور پر قومی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے اور ٹیکس نیٹ میں وسعت آ سکتی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں