بہاولپور(کرائم رپورٹر) تحصیل صدر بہاولپور میں پٹوار نظام مبینہ طور پر اپنی سابقہ 50 سالہ روایت پر قائم، تقریباً 90 فیصد پٹواری سرکاری پٹوار خانوں کے بجائے نجی کرائے کے مکانوں میں اپنے پرائیویٹ منشیوں کے ہمراہ بیٹھ کر کام کرنے لگے۔ گوہر ٹاؤن، حبیب کالونی،دربار محل مون اکیڈمی،اضافی سکیم وکیل والی چکی کے ساتھ،صدر پلی اور احمد پور روڈ بھٹہ نمبر 2 سمیت مختلف مقامات پر نجی طور پر کام کرنے کے حوالے سے شکایات سامنے آنے کے بعد متعلقہ ریونیو حکام اور اینٹی کرپشن کی نگرانی پر بھی مایوس کن ہے۔ذرائع کے مطابق تحصیل صدر بہاولپور کے مختلف مواضعات میں پٹواریوں کے مبینہ طور پر نجی مکانوں میں بیٹھنے اور پرائیویٹ منشیوں کے ذریعے دفتری امور انجام دینے کی شکایات ہیں۔ اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے مقررہ مقامات کے بجائے نجی مکانوں میں کام کرنے کی اجازت کس نے دی، ان مقامات پر سرکاری ریکارڈ کی حفاظت کا کیا انتظام ہے اور متعلقہ افسران اس پورے نظام کی نگرانی کیسے کر رہے ہیں؟تحصیل صدر بہاولپور کے جن مواضعات کے پٹواریوں کے دفتری نظام اور مبینہ طور پر نجی مقامات پر کام کرنے کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، ان میں سجاول والہ، نور و آرائیں، ڈارونجھ، گوٹھ لعل، غلاموں آرائیں، گوٹھ مہرو، نو آباد، چک نمبر 1/BC، روکرانی، کرانی، مڑل، نہڑ والی، جلال آباد، شہباز کٹپال، نور پور، چک نمبر 33/BC، رنگ پور، ٹبہ میانی، واہی حسین، چک نمبر 13/BC (سکنی)، چند رانی غربی، کلانچو والا، جمبرانی کہنہ، ڈیرہ لکھا، الٰہی بخش ڈھول، چک نمبر 37/BC (سکنی)، چک نمبر 5/BC، گوٹھ غنی، بجنا، چک نمبر 6/BC، چک نمبر 4/BC، چک نمبر 7/BC، گوٹھ میر، بھٹی ڈاہری، راجہ والہ، ڈتہ بلوچ، غلاموں مہار، شاہو چنڑ، وڑھیلاں، چک نمبر 20/BC، چک نمبر 2/BC، چک نمبر 23/BC، سنجر، ڈیرہ بکھا، چک نمبر 35/BC، حسن چنڑ، واہی گوسائی، کڑ پال، واہی شاہ محمد، منگڑیچہ، اوترا، خانقاہ شریف، گلانی، سوئی وہار، جندو مسن، گل ڈیرہ، چک نمبر 32/BC، صیف پور، حبیب مسن، چک نمبر 32-A/BC، ماڑی میر محمد اور ٹبی داتا خان سمیت دیگر مواضعات شامل ہیں۔مذکورہ مواضعات میں پٹواریوں کی تعیناتی، ان کے مقررہ دفتری مقامات اور نجی منشیوں کے کردار کے حوالے سے حقائق کی تصدیق ضروری ہے۔ اگر پٹواری سرکاری پٹوار خانوں کے بجائے نجی مکانوں میں بیٹھ کر سرکاری امور انجام دے رہے ہیں تو متعلقہ حکام کو یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ان مقامات کی قانونی حیثیت کیا ہے، نجی منشیوں کو کس نوعیت کے کام سونپے گئے ہیں اور شہریوں کو زمینوں کے ریکارڈ، انتقالات اور فرد کے حصول کے لیے کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔پٹوار نظام کا تعلق شہریوں کے بنیادی ریونیو معاملات، زمینوں کے ریکارڈ کی حفاظت اور سرکاری امور میں شفافیت سے ہے۔ اگر کسی مقام پر قواعد کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال یا سرکاری ریکارڈ کے تحفظ میں غفلت کے شواہد سامنے آتے ہیں تو ذمہ داری کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔شہری حلقوں نے کمشنر بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور، بورڈ آف ریونیو پنجاب اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل صدر بہاولپور کے تمام متعلقہ مواضعات میں اچانک انسپکشن کی جائے، پٹواریوں کی تعیناتی اور دفتری مقامات کی جانچ پڑتال کی جائے، نجی منشیوں کے کردار اور سرکاری ریکارڈ کی حفاظت کا جائزہ لیا جائے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانا متعلقہ افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر شکایات درست ثابت ہوتی ہیں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، تاکہ پٹوار نظام کو قواعد کے مطابق چلایا جا سکے اور شہریوں کو ریونیو معاملات میں غیر ضروری مشکلات سے نجات مل سکے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ حکام ان شکایات کا نوٹس لے کر عملی اقدامات کرتے ہیں یا نہیں۔







