نشتر ہسپتال ٹو میں مبینہ کرپشن کی عجب کہانی، وزیراعلیٰ پنجاب کودرخواست

ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال ٹو میں مبینہ کرپشن کی عجب کہانی۔مبینہ جعلی بل، جعلی ریکارڈ اور کروڑوں روپے کے غبن،تھرڈ پارٹی آڈٹ میں بڑے گھپلوں کاانکشاف، اینٹی کرپشن کی طرف سے کی جانے والی انکوائری کو بریکیں لگ گئیں۔ انکوائری سست روی کا شکار ہے۔اس حوالے سے ایک تحریری درخواست وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اداروں کے افسران کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو ملتان میں مبینہ کرپشن، جعلی بلوں اور ریکارڈ ٹیمپرنگ کی ایک عجب کرپشن کہانی سامنے آ گئی ہے۔ ہسپتال میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا گیا جو مبینہ طور پر نظروں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھا۔ الزام ہے کہ غیر قانونی ہسپتال شیئرز اور من پسند کمپنیوں سے اپنے نام پر لاکھوں روپے لیے گئے اور ادائیگیاں کی گئیں۔ مبینہ طور پر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کی منظوری کو نظر انداز کیا گیا اور راتوں رات جعلی بل بنا کر چیک جاری کر دیئے گئے۔الزام ہے کہ آڈٹ آفیسر ذیشان اور اکاؤنٹنٹ یونس نے راتوں رات کروڑوں روپے کے جعلی بل بنائے اور سٹور کلرک ملک حنیف کے ساتھ مل کر راتوں رات اخراجات بھی کروا ڈالے۔ جب ڈی جی آڈٹ کو بتایا گیا کہ 3 سال کا ریکارڈ انشی کرپشن کے پاس ہے اور آڈٹ کمپنی کو مجبور کیا گیا کہ وہ ہماری من پسند رپورٹ دیں۔اس تمام صورتحال پر سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نشتر ہسپتال ٹو اور وہاں کے کرپٹ عناصر پر گورنمنٹ پنجاب کا رول لاگو نہیں ہوتا۔دوسری جانب اس معاملے پر اینٹی کرپشن ڈائریکٹوریٹ ملتان نے پرچیز آفیسر، شہزاد شریف اور یونس اکاؤنٹ آفیسر کے خلاف جعلی ریکارڈ اور کرپشن کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انکوائری شروع کی۔ شہزاد شریف کو گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن با اثر اور مضبوط سفارش پر اینٹی کرپشن ملتان میں اس مقدمہ کو بریکیں لگ گئی ہیں اور ایک سال ہو گیا معاملہ سست روی کا شکار ہے۔اینٹی کرپشن میں یونس اکاؤنٹنٹ کی جعلی تقرری، جعلی تعلیمی ڈگری، غیر قانونی ہسپتال شیئرز کی تقسیم کے حوالے سے بھی انکوائری شروع ہوئی تھی لیکن پھر مضبوط سفارش پر معاملے کو ٹھنڈا کر دیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو میں مریض علاج کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور وہاں کے افسران و ملازمین کی عیاشی اور کرپشن ختم ہونے کو نہیں آ رہی۔درخواست گذار نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو میں ہونے والی مبینہ کرپشن، جعلی بلوں اور جعلی بھرتیوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ سرکاری خزانے کو لوٹنے والے عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ تحریری درخواست سات صفحات پر مشتمل ہے جس کو آئندہ اشاعت میں شائع کیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں