ملتان (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم پاکستان کی حکومت کی جانب سے ملک کو درپیش معاشی دباؤ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے 17 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے واضح کفایت شعاری اور فیول کنزرویشن اقدامات کے اگلے ہی روز ملک کی متعدد سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان کی جانب سے کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد لاہور کیمپس میں منعقدہ ’’نیٹ ورکنگ ڈنر‘‘ اور قوالی نائٹ میں بھرپور شرکت نے سرکاری پالیسی کے عملی نفاذ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ وفاقی حکومت کے کابینہ ڈویژن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کمی، نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی، گاڑیوں اور بیشتر پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی، غیر ملکی دوروں پر پابندی، ٹیلی کانفرنسنگ کو ترجیح اور سب سے بڑھ کر سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر پابندی عائد کی گئی ہےجس میں صرف غیر ملکی وفود کی آمد کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ نوٹیفکیشن 17 ستمبر کو جاری ہوا اور اس میں اقدامات فوری طور پر نافذ کرنے کا کہا گیاجبکہ اس کے اگلے ہی روز 18 ستمبر کو کامسیٹس لاہور کیمپس میں اکیڈیما کے اعزاز میں ایک نیٹ ورکنگ ڈنر منعقد کیا گیاجس میں مختلف سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز نے شرکت کی۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں وفاقی حکومت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی اسی نوعیت کے اقدامات اپنائیں۔ ایک یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس تقریب میں ایک یونیورسٹی کی وائس چانسلر سمیت متعدد اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے لیکن اسی پریس ریلیز میں یہ بھی درج ہے کہ تقریب کے دوران معروف قوال علی عمران سنتو نے قوالی پیش کی اور ’’محفل کو گرما دیا‘‘۔ یوں ایک ایسے وقت میں جب حکومت سرکاری اخراجات کم کرنے، فیول بچانے اور سرکاری عشائیوں کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ واضح طور پر ممانعت کا اعلان کر چکی تھی، ایک سرکاری یونیورسٹی کیمپس میں اعلیٰ سرکاری جامعات کے سربراہان کی موجودگی میں عشائیے کے ساتھ قوالی نائٹ کا انعقاد خود احتسابی اور سرکاری پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت کا 17 ستمبر کا نوٹیفکیشن محض ایک عمومی اپیل نہیں بلکہ ’’with immediate effect‘‘ یعنی فوری طور پر اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ نوٹیفکیشن میں سرکاری عشائیوں کے حوالے سے الفاظ انتہائی واضح ہیں کہ غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیے منعقد نہیں کیے جائیں گےجبکہ سرکاری فنڈز سے منعقد ہونے والے سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے اور ناگزیر صورت میں سرکاری مقامات استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت پاکستان ملک کے عوام، سرکاری افسران اور اداروں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ پٹرول مہنگا ہے، قومی خزانے پر دباؤ ہے، فیول کی بچت ضروری ہے، غیر ضروری اخراجات روکنے ہیں اور سرکاری عشائیوں تک کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے تو پھر اعلیٰ تعلیم کے سب سے بڑے منصبوں پر فائز شخصیات کو اسی پالیسی کے فوری بعد ایسے پروگرام میں شرکت کرتے وقت اس امر کی وضاحت کیوں نہیں کرنی چاہیے تھی کہ اس تقریب کے اخراجات کس نے برداشت کیے، یہ عشائیہ کس حیثیت سے منعقد ہوا، آیا اسے سرکاری فنڈز سے کوئی ادائیگی کی گئی یا نہیں، اور کیا اس کے لیے کسی مجاز اتھارٹی سے استثنیٰ حاصل کیا گیا تھا؟ یہاں اصل سوال صرف ایک ڈنر کا نہیں بلکہ سرکاری پالیسی کی روح کا ہے۔ اگر حکومت پاکستان ملک بھر میں کفایت شعاری کے نام پر سرکاری اداروں کے بجٹ محدود کر رہی ہے، گاڑیوں کے فیول میں نصف کمی کر رہی ہے، غیر ضروری خریداری روک رہی ہے اور سرکاری عشائیوں پر پابندی لگا رہی ہے تو اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ قومی پالیسی کا عملی نمونہ بنیں۔ وفاقی نوٹیفکیشن میں استثنیٰ کا اختیار بھی مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ مخصوص اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستیں کیس ٹو کیس بنیاد پر متعلقہ کمیٹی کے ذریعے وزیراعظم کی منظوری کے لیے بھیجے جانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس صورتحال نے وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ، پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ جامعات کی کنٹرولنگ و اپوائنٹنگ اتھارٹیز کے سامنے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خصوصاً یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آیا مذکورہ تقریب کو سرکاری عشائیہ تصور کیا گیا، اس کے اخراجات کس مد سے ادا ہوئے، آیا کسی قسم کا سرکاری فنڈ استعمال ہوا، شرکاء کے سفری اخراجات کس نے برداشت کیے اور کیا 17 ستمبر کے وفاقی نوٹیفکیشن کے بعد اس پروگرام کے لیے کوئی باقاعدہ استثنیٰ حاصل کیا گیا تھا۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن خود وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، سرکاری اداروں اور دیگر متعلقہ حکام تک پہنچایا گیا ہے اور اس کی نقول چیف سیکریٹریز سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ اس لیے اب گیند متعلقہ حکام کے کورٹ میں ہے کہ وہ واضح کریں کہ کفایت شعاری کی اس پالیسی کا عملی اطلاق اعلیٰ تعلیمی اداروں پر کس حد تک ہوتا ہے اور ایسے پروگراموں کے لیے کیا قواعد مقرر ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے معاشی دباؤ کے ماحول میں اٹھائے گئے اقدامات کی کامیابی کا انحصار صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے پر نہیں بلکہ سرکاری اداروں کے سربراہان کی جانب سے اس پر عملدرآمد پر بھی ہے۔ وزارت خزانہ نے بھی ستمبر 2026 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں وزیراعظم کے فیول ریلیف پیکیج کی منظوری اور معاشی استحکام کے اقدامات کی نشاندہی کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کفایت شعاری صرف عام سرکاری ملازم، عام شہری اور سرکاری گاڑی کے ڈرائیور کے لیے ہے یا اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات بھی اس قومی پالیسی کی پابند ہیں؟ اگر مذکورہ نیٹ ورکنگ ڈنر اور قوالی نائٹ پر سرکاری خزانے سے کوئی رقم خرچ نہیں ہوئی، کسی سرکاری وسائل کا استعمال نہیں ہوا اور متعلقہ قواعد کے مطابق باقاعدہ اجازت یا استثنیٰ حاصل تھا تو متعلقہ اداروں کو یہ تفصیلات عوام کے سامنے لانی چاہئیں، لیکن اگر سرکاری وسائل استعمال ہوئے یا کسی پابندی سے بچنے کے لیے محض تقریب کا نام تبدیل کیا گیا تو پھر یہ معاملہ محض ایک ڈنر نہیں بلکہ سرکاری پالیسی، مالی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی جوابدہی کا سنگین معاملہ بن جاتا ہے۔ تعلیم، تحقیق، میرٹ اور قومی وسائل کے محافظ سمجھے جانے والے وائس چانسلرز سے عوام یہ توقع ضرور رکھتی ہے کہ وہ حکومت کے کفایت شعاری کے فیصلوں کی روح کو سمجھیں گے اور خود بھی مثال قائم کریں گے۔ 17 ستمبر کے نوٹیفکیشن کے صرف ایک دن بعد ایسے اجتماع میں متعدد جامعات کے سربراہان کی شرکت نے کم از کم اتنا سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا قومی سطح پر جاری کفایت شعاری کی پالیسی اعلیٰ تعلیمی قیادت تک بھی اسی شدت سے پہنچ رہی ہے جس شدت سے اس کا اطلاق عام سرکاری نظام پر کیا جا رہا ہے؟ اب متعلقہ حکام کی خاموشی کے بجائے وضاحت درکار ہے: اس نیٹ ورکنگ ڈنر اور قوالی نائٹ کا کل خرچ کتنا تھا، ادائیگی کس نے کی، کس بجٹ ہیڈ سے ہوئی، شرکاء کے سفر اور دیگر اخراجات کس نے برداشت کیے، اور کیا وفاقی حکومت کے 17 ستمبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے بعد اس تقریب کے لیے کوئی تحریری اجازت یا استثنیٰ موجود تھا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب سے واضح ہوگا کہ یہ محض ایک ادارہ جاتی نیٹ ورکنگ تقریب تھی یا کفایت شعاری کے حکومتی فیصلوں کے تناظر میں قابلِ احتساب سرکاری سرگرمی۔







