ملتان (سپیشل رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے گھر گھر صاف اور محفوظ پانی پہنچانے کے ویژن کو سرکاری اداروں کی مبینہ غفلت اور ناقص انتظامی نظام نے سوالیہ نشان بنا دیا۔ صاف سُتھرا پنجاب پروگرام کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعات کے بعد اب صاف پانی اتھارٹی کے تحت واٹر فلٹریشن پلانٹس کا معاملہ بھی شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ضلع لودھراں میں عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے 35 واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئےتاہم ان پلانٹس پر تعینات آپریٹرز کا دعویٰ ہے کہ انہیں گزشتہ 15 ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ ملازمین کے مطابق وہ مسلسل ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیںمگر ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور متعلقہ کمپنی و حکام کی جانب سے انہیں واجبات کی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ذرائع اور مقامی شہریوں کے مطابق ان پلانٹس کے آپریشن اور دیکھ بھال کا ٹھیکہ مختلف اوقات میں مختلف کمپنیوں کو دیا جاتا رہاجبکہ اس وقت میٹرون نامی کمپنی کے پاس آپریشن کا ٹھیکہ بتایا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے پلانٹس کے آپریشن، پانی کی فراہمی، فلٹرز کی تبدیلی، صفائی اور دیگر اخراجات کی مد میں باقاعدہ ادائیگیاں کی جا رہی ہیں تو پھر آپریٹرز کی 15 ماہ کی تنخواہیں کہاں جا رہی ہیں اور پلانٹس کی دیکھ بھال کا نظام کہاں ہےمقامی افراد کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس کی دیکھ بھال اور ضروری اخراجات مقامی زمیندار، نمبردار، مخیر حضرات اور بیرون ملک مقیم افراد اپنی مدد آپ کے تحت برداشت کر رہے ہیںجبکہ مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں پلانٹس کے ماہانہ اخراجات اور دیگر مدات کے بل حکومت کو ارسال کیے جاتے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ حکومت سے وصول کی جانے والی رقوم حقیقتاً کہاں خرچ ہو رہی ہیں۔سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ پلانٹس پر تعینات آپریٹرز کا کہنا ہے کہ جب وہ طویل عرصے سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ملازمت چھوڑنے کی بات کرتے ہیں تو انہیں مبینہ طور پر ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ملازمین کے مطابق انہیں بتایا جاتا ہے کہ معاہدے کے تحت پلانٹ کی چوبیس گھنٹے نگرانی ان کی ذمہ داری ہے، اس لیے وہ ملازمت نہیں چھوڑ سکتے۔یہ صورتحال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر آپریٹر کو تنخواہ نہیں مل رہی تو 24 گھنٹے کی ڈیوٹی کس نظام کے تحت اور کس کے مفاد میں لی جا رہی ہےوزیراعلیٰ کے ویژن کو کون ناکام بنا رہا ہے؟وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے عوام کو صاف، محفوظ اور معیاری پانی کی فراہمی ایک اہم عوامی فلاحی ترجیح ہےمگر لودھراں کے 35 فلٹریشن پلانٹس سے متعلق سامنے آنے والی شکایات اس ویژن پر عملدرآمد کے دعوؤں کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔اگر سرکاری خزانے سے رقوم جاری ہو رہی ہیں، کمپنیاں ٹھیکے لے رہی ہیں، ماہانہ اخراجات کے بل بن رہے ہیں، مگر دوسری جانب پلانٹس کی دیکھ بھال، فلٹرز کی تبدیلی، صفائی اور آپریٹرز کی تنخواہیں سوال بن چکی ہیں تو پھر حکومت کو یہ ضرور پوچھنا ہوگا کہ عوام کے صاف پانی کے لیے مختص پیسہ آخر کہاں خرچ ہو رہا ہےوزیراعلیٰ پنجاب سے فوری انکوائری کا مطالبہشہریوں اور متاثرہ آپریٹرز نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لودھراں کے تمام 35 فلٹریشن پلانٹس کا فوری تھرڈ پارٹی آڈٹ، پانی کے معیار کا لیبارٹری ٹیسٹ، فلٹرز و مشینری کی حالت کا معائنہ، کمپنی کو کی جانے والی ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات اور آپریٹرز کی 15 ماہ کی تنخواہوں کی تحقیقات کرائی جائیںاگر تحقیقات میں سرکاری رقوم کے غلط استعمال یا جعلی اخراجات کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائےحکومت کو ناکام بنانے کی کوشش باہر سے ہو رہی ہے یا سرکاری اداروں کے اندر بیٹھے عناصر خود حکومتی ویژن کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب اب شفاف تحقیقات ہی دے سکتی ہیں۔







