ملتان ( قوم ریسرچ سیل ) پنجاب فوڈاتھارٹی لاپتہ ۔ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں مردہ مرغیوں کا مکروہ دھندا! علی الصبح سپلائی، دکانوں وہوٹلوں پر پہلے سے ذبح شدہ گوشت کی فروخت کا انکشاف،مردہ مرغی گوشت کو”ٹھنڈاگوشت” کاکوڈنام دیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق پولٹری فارمز پر بیماری، کمزوری یا دیگر وجوہات سے مرنے والی مرغیوں کو تلف کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ایک مخصوص نیٹ ورک کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا ہے اور علی الصبح، حتیٰ کہ طلوعِ فجر سے پہلے، مختلف علاقوں میں قائم گوشت کی دکانوں ،ہوٹلوں اور مبینہ خفیہ پوائنٹس تک پہنچایا جاتا ہے۔ مردہ مرغیوں کو مختلف مقامات پر پہلے ہی ذبح شدہ مرغیوں کے گوشت کے ساتھ ملا کر فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ مختلف دکانوں وہوٹلوں پر صبح سویرے تیار شدہ مردہ مرغی گوشت موجود ہوتا ہے۔ ملتان میں چوک کمہارانوالہ ،چوک شہیداں، ریلوے روڈ،پل براراں،نواب پورروڈ،قاسم بیلہ ،چوک شاہ عباس ، سورج کنڈ روڈ،خونی برج ،ڈبل پھاٹک پراناشجاع آباد روڈ، انصارکالونی روڈ، ممتاز آباد، عزیزہوٹل چوک، علی چوک دولت گیٹ اور دیگر علاقوں میں یہ مکروہ دھنداکیاجارہا ہے۔اس دھندے کا بنیادی طریقہ کار یہ بتایا جاتا ہے کہ پولٹری فارمز سے مردہ مرغیاں انتہائی کم قیمت پر حاصل کی جاتی ہیں، زندہ مرغی کے مقابلے میں کم قیمت یا معمول کی قیمت پر گوشت کے طور پر مارکیٹ میں پہنچایا جاتا ہے۔ اس طرح مافیا کو غیر معمولی منافع جبکہ شہریوں کو انتہائی غیر محفوظ خوراک فراہم کی جاتی ہے جس کے باعث شہری بیماریوں کاشکارہورہے ہیں۔فوڈاتھارٹی کی محدودکارروائیاں یہ دھنداروکنے میں فلاپ ہیں ۔معاملہ صرف چند دکانداروں تک محدود نہیں بلکہ پولٹری فارمز، سپلائرز، ٹرانسپورٹ، گوشت فروش اور خریداروں پر مشتمل مکمل سپلائی چین کی تحقیقات اورکریک ڈائون کا متقاضی ہے۔فوڈ اتھارٹی ٹیموں اور ویجی لینس افسران کی آپس میں اورمردہ مرغی گوشت کادھنداکرنے والوں کیساتھ ملی بھگت کی بازگشت ہے۔مردہ مرغی کو ذبح شدہ صحت مند مرغی کے گوشت کے طور پر فروخت کرنا انتہائی سنگین غذائی تحفظ کا مسئلہ ہے۔ خصوصاً اگر مردہ مرغی بیماری، انفیکشن یا کسی دوسرے مرض کے باعث مری ہو تو اس کا گوشت انسانی استعمال کے لیے شدید خطرہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ایسے گوشت کو محض ناقص خوراک نہیں بلکہ سنگین فوڈ سیفٹی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز،معاون خصوصی وزیراعلیٰ سلمیٰ بٹ سے سخت نوٹس لیکرکارروائی کرنے کامطالبہ کیاہے۔اس حوالے سے ترجمان فوڈ اتھارٹی سے موقف لینے کی کوشش کی گئی مگران کاموبائل فون اٹینڈ نہیں ہوسکا۔







