ملتان (سٹاف رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں انتظامی معاملات پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں سابق ہاسٹل وارڈن و پبلک ریلیشنز آفیسر ڈاکٹر نعیم کی جانب سے یونیورسٹی کے اعلیٰ انتظامی افسران سے مبینہ ریکوریوں کی نشاندہی کے بعد انہیں مختلف معاملات میں وضاحتوں اور مراسلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے اسے مبینہ طور پر دباؤ ڈالنے اور انتقامی کارروائی کا سلسلہ قرار دیتے ہوئے انتہائی کم انتظامی تجربے کے حامل وائس چانسلر ڈاکٹر حسان خالق قریشی کی انتظامی نگرانی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر نعیم نے مبینہ طور پر رجسٹرار اور خزانچی سے سرکاری رہائش کے کرائے، کنوینس الاؤنس، ہاؤس رینٹ، مینٹیننس چارجز، یوٹیلٹی چارجز اور بجلی کے یونٹس سمیت مختلف مدات میں ریکوریوں کی نشاندہی کی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایک معاملے میں رجسٹرار سے تقریباً 21 لاکھ روپے جبکہ دوسرے میں خزانچی سے تقریباً 16 لاکھ روپے کی ریکوری کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ تاہم ان رقوم اور ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ یونیورسٹی ریکارڈ اور مجاز فورم ہی کر سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ ریکوریوں کے معاملے کے بعد ڈاکٹر نعیم کے خلاف مختلف نوعیت کی کارروائیوں اور وضاحت طلبیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے یونیورسٹی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ کیا مالی معاملات کی نشاندہی کرنا کسی افسر کے لیے سزا بن گیا ہے؟ حالیہ واقعے نے اس سوال کو مزید تقویت دی ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک خط میں سابق اسٹیٹ افسر ڈاکٹر محمد عمیر سہیل سے ہاسٹل میں نصب ایئر کنڈیشنر اتارے جانے کے معاملے پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 27 اگست 2026 کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں اے سی کو غیر فعال قرار دیا گیا تھا، جبکہ الیکٹریشن کی رپورٹ کے مطابق اے سی آن کرنے پر اس کا کمپریسر چل پڑا اور بعد ازاں اس کی گیس محفوظ کرلی گئی۔ خط میں اس صورتحال کو رپورٹ میں ’’ڈسکریپنسی‘‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر عمیر سہیل سے پوچھا گیا ہے کہ اے سی کو غیر فعال کیوں قرار دیا گیا اور اس کی تنصیب ختم کرنے سے قبل اس کی اصل حالت اور فعالیت کی جانچ کی گئی تھی یا نہیں۔ مزید برآں انہیں تین دن کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اسے مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ یونیورسٹی حلقوں میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سابق ہاسٹل وارڈن و پی آر او کی جانب سے مبینہ مالی ریکوریوں کی نشاندہی کے بعد سامنے آنے والی مسلسل وضاحت طلبیوں کو محض معمول کی انتظامی کارروائی سمجھا جائے یا اسے وسیع تر انتظامی تناظر میں بھی دیکھا جائے۔ کسی افسر سے وضاحت طلب کرنا بذاتِ خود ہراسگی یا انتقام ثابت نہیں کرتا، تاہم اگر کارروائی کا مقصد کسی شکایت کنندہ یا نشاندہی کرنے والے افسر پر دباؤ ڈالنا ثابت ہو تو یہ انتہائی سنگین انتظامی معاملہ بن سکتا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر حسان خالق قریشی کو ایسے معاملات میں براہ راست یا بالواسطہ کسی ایک فریق کا تاثر پیدا ہونے سے گریز کرتے ہوئے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ یونیورسٹی میں خوف، دباؤ اور باہمی محاذ آرائی کے بجائے ایسی فضا قائم ہونی چاہیے جہاں کوئی افسر مالی یا انتظامی بے ضابطگی کی نشاندہی کرے تو اسے تحفظ اور شفاف تحقیقات ملیں، نہ کہ مسلسل وضاحت طلبیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ اب گیند یونیورسٹی انتظامیہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ 21 لاکھ اور 16 لاکھ روپے کی مبینہ ریکوریوں، سرکاری رہائش کے واجبات، یوٹیلٹی اخراجات اور اے سی کے حالیہ تنازع سمیت تمام معاملات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کراتی ہے یا پھر مراسلت اور وضاحت طلبیوں کا سلسلہ ہی جاری رہتا ہے۔ یاد رہے کہ اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر نہایت ہی کم انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر اپنے باورچی کے ساتھ گندی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد گزشتہ سال 21 اگست کو استعفی دے گئے تھے۔







