ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں مبینہ طور پر اعلیٰ انتظامی افسران بشمول خزانچی اور رجسٹرار کی جانب سے یونیورسٹی کی رہائش گاہوں کے غیر معمولی استعمال اور مالی مراعات سے متعلق سنگین سوالات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید متنازع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے رجسٹرار اور خزانچی مبینہ طور پر ایسی رہائش گاہیں استعمال کر رہے تھے جن کے عوض ایک طالب علم کے برابر معمولی رقم وصول کی جا رہی تھی، جبکہ مبینہ طور پر ہاؤس رینٹ، یوٹیلٹی چارجز، مینٹیننس اور دیگر واجبات کی مکمل وصولی نہیں کی جا رہی تھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ رہائش گاہوں میں بجلی کا استعمال بھی غیر معمولی حد تک زیادہ رہا اور بعض اوقات بجلی کے ماہانہ یونٹس مبینہ طور پر 700 تک پہنچ گئے، تاہم اس کے باوجود یونیورسٹی کی جانب سے واجبات کی وصولی اور سرکاری رہائش کے قواعد پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آئی۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ان مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے اور معاملہ متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے والے ہاسٹل وارڈن کو پہلے شوکاز جاری کیا گیا اور بعد ازاں ان کو ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اوپر سے ان کو نشان عبرت بنانے کے لیے ڈائریکٹر میڈیا، پریس اور پبلیکیشن سے بھی ہٹا دیا۔ یوں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر شکایت میں کوئی حقیقت نہیں تھی تو شکایت کنندہ کو عہدے سے ہٹانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اگر شکایت میں وزن تھا تو پھر رہائشیں استعمال کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ یونیورسٹی حلقوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ کیا کسی مالی یا انتظامی بے ضابطگی کی نشاندہی کرنے والے افسر کو سزا دینا اعلی تعلیمی ادارہ جاتی احتساب کے اصولوں کے منافی نہیں؟ تعلیمی حلقوں کے مطابق اگر کسی افسر نے سرکاری وسائل کے استعمال، بجلی کے غیر معمولی اخراجات یا رہائشی سہولتوں کے بارے میں اعتراض اٹھایا تھا تو اس کی شکایت کی غیرجانبدارانہ انکوائری ہونی چاہیے تھی، نہ کہ شکایت کنندہ ہی کو عہدے سے ہٹا کر معاملہ دبانے کا تاثر پیدا کیا جاتا۔ معاملے کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یونیورسٹی کے اعلیٰ افسران کو سرکاری رہائشیں الاٹ کی گئی تھیں تو ان کے لیے ہاؤس رینٹ، یوٹیلٹی، بجلی، پانی، مینٹیننس اور دیگر واجبات کے کیا قواعد مقرر تھے اور کیا ان قواعد کے مطابق مکمل رقم وصول کی گئی؟ اگر نہیں تو اس مبینہ مالی نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ ذرائع کے مطابق شکایت کنندہ ہاسٹل وارڈن کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو دبانے کے بجائے یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ رہائشوں کا ریکارڈ، الاٹمنٹ آرڈرز، بجلی کے بل، میٹر ریڈنگ، وصول شدہ چارجز اور متعلقہ افسران سے ریکوری کی تفصیلات سامنے لاتی۔ لیکن شکایت کنندہ کو ہی ہٹا دیے جانے کے بعد یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا ہے کہ شاید اصل سوالات کا جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانے والے کو خاموش کرایا گیا۔ اب گیند یونیورسٹی انتظامیہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ واضح کرے کہ مذکورہ رہائشیں کس قانون، ضابطے یا مجاز اتھارٹی کے فیصلے کے تحت استعمال کی جا رہی تھیں، ماہانہ کتنے چارجز وصول کیے گئے، بجلی کے 700 تک مبینہ یونٹس کا بل کس نے ادا کیا، اور شکایت کنندہ ہاسٹل وارڈن کو عہدے سے ہٹانے کی اصل وجہ کیا تھی؟ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس یونیورسٹی میں نئے تعینات ہونے والے وائس چانسلر کا انتظامی تجربہ نہ ہونے ے برابر ہے اور یاد رہے کہ یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کے 68 سالہ وائس چانسلر اپنے باورچی کے ساتھ منہ کالا کرتے ہوئے ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد گزشتہ سال 21 اگست کو استعفیٰ دے گئے تھے۔







