جسٹس حمید کالونی، تنگ گلیوں میں بڑے ہسپتال، کارپوریشن، پی ایچ سی، سول ڈیفنس، ماحولیات نگرانی پر سوال

ملتان(سپیشل رپورٹر)نشتر ہسپتال کے سامنے جسٹس حمید کالونی میں بڑے ہسپتال، چھوٹی گلیاں اور بڑے سوالات پیداہوگئے۔میونسپل کارپوریشن، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، سول ڈیفنس اور محکمہ ماحولیات کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ گیا۔ نشتر ہسپتال کے سامنے واقع جسٹس حمید کالونی کی تنگ و محدود گلیوں میں قائم بڑے نجی ہسپتالوں اور کمرشل طبی مراکز نے متعلقہ سرکاری اداروں کی کارکردگی پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور مریضوں کے لواحقین کا سوال ہے کہ رہائشی علاقے کی انتہائی تنگ گلیوں میں بڑے ہسپتالوں اور طبی مراکز کے قیام کی اجازت آخر کس قانون ضابطے اور عوامی مفاد کے تحت دی جاتی ہے۔جسٹس حمید کالونی کی متعدد گلیاں اتنی محدود ہیں کہ کسی بڑے حادثے، آگ لگنے یا کسی ہنگامی صورتحال میں فائر بریگیڈ ایمبولینس اور دیگر امدادی مشینری کی بروقت رسائی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ ایسے میں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بڑے ہسپتالوں کو اجازت دینے سے قبل ایمرجنسی رسپانس فائر سیفٹی، داخلی و خارجی راستوں اور مریضوں کے محفوظ انخلا کے تقاضوں کا عملی طور پر جائزہ لیا گیا یا صرف کاغذی کارروائی مکمل کی گئی۔این او سی دینے والے ادارے جواب دیں۔میونسپل کارپوریشن سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ رہائشی نوعیت کی تنگ گلیوں میں بڑے کمرشل ہسپتالوں اور طبی مراکز کو کس بنیاد پر کمرشل استعمال کی اجازت دی گئی اگر متعلقہ اداروں نے نقشہ، کمرشلائزیشن یا تعمیراتی اجازت نامہ جاری کیا ہے تو کیا موقع پر جا کر یہ بھی دیکھا گیا کہ عمارت تک ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی رسائی ممکن ہے یا نہیں۔اسی طرح سول ڈیفنس اور فائر سیفٹی سے متعلق این او سی جاری کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ کیا متعلقہ حکام نے موقع پر عملی معائنہ کیا؟ کیا ایمرجنسی ایگزٹ، فائر فائٹنگ سسٹم، ایمرجنسی راستوں اور عمارت سے فوری انخلا کی سہولت موجود ہے؟ اگر یہ تمام تقاضے پورے ہیں تو ان کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔محکمہ ماحولیات کی ذمہ داری بھی کم اہم نہیں۔ بڑے طبی مراکز سے پیدا ہونے والے میڈیکل ویسٹ، آلودگی، جنریٹرز، شور اور دیگر ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے ماحولیاتی تقاضوں کی تکمیل کیسے یقینی بنائی گئی؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ محکمے محض کاغذی این او سی تک محدود رہنے کے بجائے موقع پر جا کر حقائق کا جائزہ لیں۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی خاموشی کیوں ہے۔نجی ہسپتالوں اور طبی مراکز کی نگرانی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، تو سوال یہ ہے کہ جسٹس حمید کالونی اور نشتر ہسپتال کے اطراف قائم نجی ہسپتالوں کا باقاعدہ معائنہ کتنی مرتبہ کیا گیا۔مریضوں اور ان کے لواحقین کی جانب سے بعض طبی مراکز میں مبینہ طور پر غیر معیاری سہولیات، مریضوں کے ساتھ نامناسب رویے، ناقص یا غیر معیاری آلات اور علاج کے معیار سے متعلق شکایات سامنے آنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو متعلقہ اداروں کی خاموشی تشویش ناک ہے، اور اگر یہ شکایات غلط ہیں تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو باقاعدہ معائنہ کرکے حقائق عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نجی ہسپتالوں کے لائسنس اور سہولیات کی صرف کاغذی جانچ ہوتی ہے یا عملی طور پر بھی معائنہ کیا جاتا ہےدور دراز علاقوں سے آنے والے مریض کس کے رحم و کرم پرنشتر ہسپتال کے سامنے ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع اور دور دراز علاقوں سے بڑی تعداد میں مریض اور ان کے لواحقین آتے ہیں۔ علاج کی امید لے کر آنے والے یہ شہری نجی طبی مراکز میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے پاس اکثر ہسپتال کی سہولیات، ڈاکٹرز، آلات اور علاج کے معیار کی آزادانہ جانچ کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ایسے میں اگر کسی مریض کو غلط تشخیص، مبینہ غلط علاج، ادویات یا انجکشن کے ردعمل یا کسی طبی غفلت کا سامنا کرنا پڑے تو متاثرہ خاندان کے پاس فوری اور مؤثر داد رسی کا راستہ کیا ہےکسی مریض کی موت کو محض ’’اللہ کی مرضی‘‘ قرار دے دینا کافی نہیں۔ اگر کسی خاندان کو طبی غفلت یا غلط علاج کا شبہ ہو تو اس معاملے کی غیر جانب دار میڈیکل انکوائری ہونی چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔نگرانی کے بجائے خاموشیشہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے باقاعدگی سے ان ہسپتالوں کا معائنہ کرتے ہیں تو انسپکشن رپورٹس، فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس، ماحولیاتی منظوری، کمرشلائزیشن اور ہیلتھ کیئر لائسنسنگ کی تفصیلات سامنے آنی چاہئیں۔اس کے برعکس اگر کسی ادارے نے طویل عرصے سے عملی معائنہ نہیں کیا تو یہ بھی ایک سنجیدہ انتظامی سوال ہے۔ کیا سرکاری ادارے صرف این او سی جاری کرنے تک محدود ہیں یا عوام کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ادا کر رہے ہیںشفاف تحقیقات کا مطالبہشہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، سول ڈیفنس اور محکمہ ماحولیات کی مشترکہ ٹیم جسٹس حمید کالونی میں قائم تمام بڑے نجی ہسپتالوں اور طبی مراکز کا ازسرنو موقع پر معائنہ کرے۔معائنے کے دوران عمارتوں کی قانونی حیثیت، کمرشل استعمال کی اجازت، پارکنگ، ایمرجنسی ایگزٹ، فائر سیفٹی، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی رسائی، میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ، طبی آلات، عملے کی اہلیت، مریضوں کے ریکارڈ اور علاج کے معیار سمیت تمام معاملات کا جائزہ لیا جائے۔اگر کسی ہسپتال یا متعلقہ افسر کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ جو ادارے تمام قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں انہیں بھی شفاف طریقے سے کلیئر کیا جائے۔عوام کا بنیادی سوال صرف یہ ہے: اگر تنگ گلیوں میں قائم ان بڑے ہسپتالوں میں کسی وقت آگ لگ جائے یا کوئی بڑا ہنگامی واقعہ پیش آ جائے تو امدادی مشینری وہاں کیسے پہنچے گی اور مریضوں کو بحفاظت باہر کون نکالے گایہ سوال کسی ایک ہسپتال کا نہیں بلکہ پورے نظامِ نگرانی، اجازت اور احتساب کا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں