خانپور: منچلوں کی تیز رفتار کار کی نہر میں گر کر جاں نحق، موٹر سائیکل سوار زخمی

خان پور (نمائندہ قوم) تیز رفتار کار چلانے والے کم عمر لڑکوں کی مبینہ غفلت، لاپروائی اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ نے ایک محنت کش خاندان پر قیامت ڈھا دی۔ اخترآباد فیز ٹو سے آنے والی تیز رفتار کار نے نہر عباسیہ کے کنارے اپنی درست سمت میں جانے والے موٹر سائیکل سوار خاندان کو زوردار ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار افراد شدید زخمی ہوگئے جبکہ 19 سالہ علیشہ بی بی عباسیہ نہر میں جا گری اور ریسکیو اہلکاروں نے اسے تلاش کرکے مردہ حالت میں نہر سے نکال لیا۔ حادثے کے باعث علاقے کی فضا سوگوار جبکہ راجپوت برادری سمیت اہل علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت تیز رفتار کار میں مبینہ طور پر کم عمر لڑکے سوار تھے اور کار میں اونچی آواز میں میوزک چل رہا تھا۔ کار اخترآباد فیز ٹو کی جانب سے انتہائی تیز رفتاری سے آئی اور نہر کنارے اپنی درست سائیڈ پر جانے والے موٹر سائیکل سوار خاندان کو زوردار ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار افراد کی ٹانگیں رانوں سے نیچے کٹ گئیں اور جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں آئیں جبکہ علیشہ بی بی ٹکر لگنے کے بعد نہر میں جا گری۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچے اور طویل جدوجہد کے بعد علیشہ بی بی کو نہر سے مردہ حالت میں باہر نکالا۔ ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ٹریفک پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر کار سواروں کو موقع پر پکڑ لیا اور ان کی ویڈیوز بھی بنائی گئیں تاہم بعد ازاں تھانہ سٹی خان پور میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں ملزمان کو ہجوم کا فائدہ اٹھا کر فرار قرار دیے جانے پر کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان کو ٹریفک پولیس نے موقع پر پکڑا تھا تو پھر مقدمے میں ان کے فرار ہونے کا اندراج کیسے ہوا؟ اس معاملے نے پولیس کارروائی اور تفتیش کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں متاثرہ خاندان کے مطابق جاں بحق ہونے والی 19 سالہ علیشہ بی بی اپنے اہل خانہ کے ساتھ دین پور شریف دعا کرانے کے لیے کنڈانی سے براستہ خان پور جا رہی تھی۔ حادثے کے بعد مرحومہ سے ایک خط بھی برآمد ہوا جس میں اس نے اپنے گھریلو حالات کی بہتری اور اپنے والد، بھائیوں سمیت پورے خاندان کے لیے دعا کی درخواست کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ علیشہ بی بی یہ خط دین پور شریف پہنچ کر پیر صاحب کو دینا چاہتی تھی مگر اسے کیا خبر تھی کہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ خود اپنے خاندان کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں