لاہور: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد ڈیجیٹل چالانز کی وصولی یقینی بنانے کے لیے پاسپورٹ کے اجرا و تجدید اور گاڑیوں کی خرید و فروخت کو چالان کلیئرنس سے مشروط کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔
اس حوالے سے سی ٹی او لاہور نے ڈیجیٹل چالانز کی مؤثر وصولی کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کو مراسلہ ارسال کردیا ہے۔
مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ون ایپ پر زیر التوا ای چالانز کی تفصیلات بمعہ پی ایس آئی ڈی دستیاب ہیں، تاہم ڈیجیٹل چالانز کا مکمل ریکارڈ ظاہر نہیں ہوتا۔ سی ٹی او لاہور نے ایپ میں تمام زیر التوا ڈیجیٹل چالانز کی تفصیلات شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔
تجویز میں کہا گیا ہے کہ ای چالان نادہندگان کی طرح ڈیجیٹل چالان ادا نہ کرنے والے شہریوں کو بھی پولیس خدمت مراکز کی بعض سہولیات سے محروم رکھا جائے۔ ایسے نادہندگان کے شناختی کارڈ کے اجرا، تجدید، ترمیم یا ڈپلیکیٹ کے عمل کو بھی چالان کی ادائیگی سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح پاسپورٹ کے اجرا اور تجدید کو بھی ای چالان اور ڈیجیٹل چالان کی کلیئرنس سے مشروط کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ گاڑی کی منتقلی، خرید و فروخت اور رجسٹریشن کے معاملات میں بھی واجب الادا چالان ختم کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔
مراسلے کے مطابق بعض شہری ڈیجیٹل چالان ادا کرنے کے بجائے نیا شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس بنوا لیتے ہیں، جس کے باعث جرمانوں کی وصولی متاثر ہوتی ہے۔
سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ زیر التوا ڈیجیٹل چالانز کی وصولی سے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کا نظام مزید مؤثر ہوگا اور بار بار خلاف ورزی کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کی جاسکے گی۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ واجب الادا جرمانوں کی بروقت وصولی سے متعلقہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے جلد نمٹنے میں مدد ملے گی، جبکہ حکومتی آمدن میں اضافے کے ساتھ انتظامی اخراجات اور محنت بھی کم ہوسکے گی۔







