اسلام آباد: عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں اپنا پہلا باقاعدہ مقامی دفتر قائم کردیا ہے، جسے ملک کے ڈیجیٹل شعبے، آئی ٹی انڈسٹری اور نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ اور امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے گوگل کے نئے دفتر کی تختی کی نقاب کشائی کی۔
پاکستان میں گوگل کی براہ راست موجودگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن کے تحت آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات کو سالانہ 30 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
پاکستان کو گوگل کے مقامی دفتر سے کیا فائدہ ہوگا؟
گوگل کے پاکستان میں دفتر کے قیام سے آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھنے، اسٹارٹ اپس کو نئے مواقع ملنے اور ایپ ڈویلپرز سمیت نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری امکانات پیدا ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ 10 برس کے دوران گوگل کے مختلف پلیٹ فارمز نے پاکستان میں 3.9 ٹریلین روپے سے زیادہ کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ ڈالا، جبکہ کمپنی کے مطابق اس کے پلیٹ فارمز نے 9 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملازمتوں کو سپورٹ کیا۔
کمپنی کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دینے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں، جبکہ پاکستان میں 5 لاکھ کروم بکس کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے۔
ان ڈیوائسز کو مستقبل میں دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں، جس سے پاکستان کے ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ شعبے کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گوگل کی مقامی موجودگی پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں، ٹیکنالوجی سرمایہ کاری، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور آئی ٹی برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور حکومت کے 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کے ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔







