لندن: آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل اور برآمدات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق سرمایہ کار تہران اور واشنگٹن کی جانب سے سامنے آنے والے متضاد بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق ہونے یا متاثر ہونے سے متعلق مختلف دعوے کیے جارہے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 26 سینٹس یعنی 0.29 فیصد اضافے کے بعد 91.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 37 سینٹس مہنگا ہوکر 85.31 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
دونوں بینچ مارک خام تیل کی قیمتیں منگل کو بھی 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور ممکنہ امن معاہدے کے امکانات محدود ہونے کے باعث عالمی سرمایہ کار تیل کی عالمی سپلائی کے مستقبل کے حوالے سے بدستور محتاط ہیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال میں واضح پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں سپلائی کے خدشات برقرار ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔







