لاہور: پنجاب بھر کے لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے لیے اہم سہولت متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے کے تمام 9 تعلیمی بورڈز کے رزلٹ کارڈز کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے نظام کے نفاذ کے بعد روایتی کاغذی رزلٹ کارڈز کا استعمال بتدریج ختم کر دیا جائے گا، جبکہ طلبہ امتحانی نتائج جاری ہونے کے بعد گھر بیٹھے موبائل یا کمپیوٹر کے ذریعے اپنا ڈیجیٹل رزلٹ کارڈ حاصل کر سکیں گے۔
اس مقصد کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل تیار کیا جا رہا ہے، جہاں طلبہ کا امتحانی ریکارڈ محفوظ ہوگا اور ضرورت کے وقت رزلٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ یا پرنٹ کیا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل رزلٹ کارڈ کا اجرا مرحلہ وار کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں نویں جماعت اور فرسٹ ایئر کے طلبہ کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ بعد ازاں دسویں جماعت اور سیکنڈ ایئر کے طلبہ کو بھی ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
نئے رزلٹ کارڈ میں کیو آر کوڈ سمیت مختلف حفاظتی فیچرز شامل کیے جائیں گے، جن کے ذریعے کالجز، جامعات، ملازمت فراہم کرنے والے ادارے اور دیگر متعلقہ تنظیمیں دستاویز کی آن لائن تصدیق کر سکیں گی۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل رزلٹ کارڈ کو روایتی رزلٹ کارڈ کے برابر قانونی اور سرکاری حیثیت حاصل ہوگی۔ طلبہ اسے کالج اور یونیورسٹی داخلوں، ملازمتوں، اسکالرشپس، مساوی سند اور دیگر سرکاری معاملات میں استعمال کر سکیں گے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے طلبہ اور والدین کا وقت اور اخراجات دونوں بچیں گے، جبکہ رزلٹ کارڈ کے حصول کے لیے تعلیمی بورڈ کے دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رزلٹ کارڈز کی ڈیجیٹل منتقلی پنجاب کے تعلیمی نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے تعلیمی دستاویزات کی حفاظت اور تصدیق کا عمل بھی مزید آسان ہو جائے گا۔







