تازہ ترین

ایران کا امریکی دعویٰ مسترد، شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے سے متعلق امریکا کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم بحری راستہ اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولا جائے گا جب تک تہران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔
ایرانی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش ختم ہونے سے متعلق بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس زمینی صورتحال تبدیل نہیں کر سکتے۔ اتھارٹی کے مطابق آبنائے ہرمز تاحال بند ہے اور ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے تک اسے بحال نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا یہ مؤقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ خطے میں بحری نقل و حرکت معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے کو کھولنے کا فیصلہ صرف امریکا کے اعلان سے نہیں ہوگا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال محض تجارتی جہازوں کی آمدورفت تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، امریکی اقدامات اور مبینہ بحری ناکہ بندی سے بھی ہے۔
تہران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں، بحری ناکہ بندی اور دیگر اقدامات ختم کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان بھی آبنائے ہرمز سے متعلق رابطے جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں محفوظ بحری راستے اور جہازوں کی نقل و حرکت کے طریقہ کار پر بات چیت کی جا رہی ہے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق یہ بات چیت آبنائے کو مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے سے الگ ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات اسی گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں طویل بندش یا بحری آمدورفت محدود ہونے سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل مدت تک مکمل یا جزوی طور پر بند رہی تو اس کے اثرات صرف توانائی کی مارکیٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی بحری تجارت اور مختلف ممالک کی معیشتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے معاملے پر ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں، جس کے باعث فوری طور پر معمول کی بحری آمدورفت بحال ہونے کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں