پاکستان کے چار صوبوں کو 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر اگر عمل درآمد ہو گیا تو اس سے نہ صرف مرکز مضبوط ہو گا اس کی اس وقت اشد ضرورت ہے بلکہ این ایف سی کی گزشتہ دو دہائیوں سے جاری دھونس سے بھی نجات مل جائے گی جس نے وفاقی ڈھانچے کو بے بس کر رکھا ہے اور پھر میثاق جمہوریت کے بعد پنجاب اور سندھ میں جو کھربوں روپے کی کرپشن کی نت نئی داستانیں رقم ہوئیں، جو گل کھلائے گئے اس سے بھی یہ پاکستانی قوم ایک غالب حد تک محفوظ ہو جائے گی۔ معروف بھارتی دانشور اور عدل و انصاف کے حوالے سے منفرد پہچان رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ مرکنڈے سے منسوب انتہائی توجہ طلب جملہ کچھ اس طرح سے ہے
For new construction, there is always the destruction of old building.
“کسی بھی نئی تعمیر کے لیے ہمیشہ پرانی تعمیر کو ملیا میٹ کرنا پڑتا ہے”
معروف مفکر اور داعی اسلام ڈاکٹر اسرار احمد کہتے ہیں کہ قرآن مجید ایک سمندر ہے اور جس کی جتنی بساط ہوتی ہے وہ اتنا ہی اس سے سیر ہو سکتا ہے۔ شیخ سعدی شیرازی سے منسوب ایک حکایت کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے۔”بارش کا پانی ایک جیسا برستا ہے کہ بارش کے تمام قطروں کی کیمسٹری ایک جیسی ہوتی ہے مگر بارش کا یہی قطرہ اگر سانپ کے منہ میں چلا جائے تو زہر بناتا ہے اور اگر سیپ کے منہ میں چلا جائے تو موتی بناتا ہے۔ اگر اعلیٰ قسم کی زمین پر برسے تو بہترین فصل اُگاتا ہے اور اگر شورہ زدہ زمین پر پڑے تو زہر آلود گھاس اُگاتا ہے جسے کھانے سے جانور مر بھی سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر کلاس میں استاد ایک ہی جیسا پڑھاتا ہے کوئی اس سے پڑھ کر 80 ،90 فیصد نمبر لے جاتا ہے اور کوئی اسی سے پڑھ کر برے طریقے سے فیل ہو جاتا ہے۔ اس میں استاد کا تو قصور نہیں، قصور تو اس کا ہے جو کہ Receiving end پر بیٹھا ہے۔
اپنے ہمسایہ ملک بھارت کو ہی دیکھ لیں کہ دو فنکار، جن میں سے ایک مزاحیہ فنکار ہے جسے نٹ بھی کہا جاتا ہے،بھگونت مان نامی اس وزیراعلیٰ پنجاب نے انتہائی قلیل عرصے میں بھارتی پنجاب کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اور وہ بھارتی پنجاب جو شعبہ تعلیم میں آخری درجوں میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں آتا تھا وہ محض تین سال میں پہلے درجے پر وکٹری سٹینڈ پر پہنچ چکا ہے جبکہ بارڈر کے اس طرف ڈھلتے سورج کے پنجاب میں جس طرح سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کا قتل عام کیا جا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ محض ایک شخص نے تین سال کے عرصے میں اپنے صوبے کی عوام کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے اور انہی تین سالوں میں ہمارے پنجاب میں جو کچھ ہوا ہے اور جس طرح ہاف فرائی اور فل فرائی جیسی ظالمانہ اصطلاحات رواج پا چکی ہیں، جس قسم کی لا قانونیت اور شخصی آمریت یہاں سرایت کر چکی ہے اس نے ڈھلتے سورج کے پنجاب کو مزید اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ ادھر کا وزیراعلیٰ عوام میں کھلے عام پھرتا ہے اور ہمارے ہاں دو صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ان کی کابینہ کے ممبران بھی بمشکل سے مل سکتے ہیں۔ رہا پنجاب کا معاملہ تو یہاں دہائیوں سے سیاست کرنے والوں کو اس دور میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ارد گرد موجود دو تین خواتین کی دن رات خوشامد میں مصروف دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت میں’’حکمران خاندان‘‘ کا لفظ کہاں استعمال ہوتا ہے جو پاکستان میں ہرچنیدہ دانشور‘‘ور ہر’’پسندیدہ اینکر‘‘ انتہائی ڈھٹائی سے استعمال کرتا ہے۔
یہ بات لاہور یا اسلام آباد میں موجود بااختیار کسی طور پر سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ دیگر صوبوں کی عوام عام پنجابی کو برا بھلا کیوں کہتی ہے اور گالی کیوں دیتی ہے حالانکہ عام پنجابی کے ساتھ تو ان کا واسطہ ہی نہیں پڑتا۔ ان کا واسطہ پڑتا ہے تو پنجابی بیوروکریٹ سے، پنجابی اشرافیہ سے اور پنجابی نوکر شاہی سے۔ آج سے 25 سال قبل جب میں اسلام آباد کے ایک قومی اخبار کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھا تو یہ جملہ ملک بھر سے اپنے مسائل کے حل کے لیے مختلف دفاتر اور وفاقی وزارتوں کے سیکریٹریٹس جانے والے لوگوں سے اکثر سننے کو ملتا تھا۔ اللہ کرے کسی پٹھان یا سندھی افسر سے واسطہ پڑے تو کام بھی سستے میں ہو جائے گا اور یقینی طور پر ہو بھی جلد جائے گا مگر اللہ کرے کسی پنجابی افسر کے پاس ہمیں جانا نہ پڑے۔ ان دنوں پنجابی اور لاہوری ہونے کے ناطے میرے لیے یہ جملہ بہت تکلیف دہ ہوا کرتا تھا اور میں اسے انتہائی منفی انداز میں لیتا تھا مگر پھر 2008 ء میں جب ایک قومی سطح کے نیوز چینل سے وابستگی ہوئی اور اس چینل کے نیٹ ورک کے ملک بھر میں قیام کے لیے مجھے پاکستان کے کونے کونے میں جانا پڑا پھر ہر طبقے، ہر قومیت اور ہر خطے کے لوگوں سے واسطہ بڑھا اور ان سے نشست و برخاست ہوتی رہی تو اندازہ ہوا کہ 25سال پہلے اسلام آباد میں جو جملہ عام سننے کو ملتا تھا وہ کتنی تلخ حقیقت پر مبنی تھا۔ اب بھی میرے لاہور اور اپر پنجاب سے تعلق رکھنے والے دوست میری اس قسم کی تبدیل شدہ رائے پر ناراض ہوتے ہیں جبکہ میرے ایک بہت ہی درینہ پیارے اور سالہا سال پر محیط گہرا تعلق رکھنے والے دوست ارشد چوہدری تو بڑی پیچیدہ دلیلوں کے ساتھ مجھے ناک آؤٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میں تھک ہار کر انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ میری جان، تمہیں اپنے کاروباری سلسلے میں دنیا بھر میں تو روٹین میں جانا پڑتا ہے مگر تمہیں پاکستان کے کونے کونے میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ورنہ میری طرح تمہاری سوچ بھی تبدیل ہو جاتی
میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ بہت مشکل کام ہے کہ ایک موقع پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کہا تھا کہ ملک بنانے آسان اور صوبے بنانے مشکل، تاہم اگر پاکستان کی مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ چار صوبوں کو 20 انتظامی یونٹس یا صوبوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اس کا سب سے خوبصورت اور صحت مند نتیجہ تو یہ نکلے گا کہ پنجابی اشرافیہ اور پنجابی بیوروکریسی کی حماقتوں،تکبر اور کروفر کی وجہ سے جو عام پنجابی کو گالی پڑتی ہے وہ یکسر ختم ہو جائے گی اس کے ساتھ ہی صوبائی عصبیت بھی اپنی موت آپ مر جائے گی۔
تازہ ترین
Destruction of old construction.
آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط متوقع، حکومت نے تیاریاں تیز کردیں
یوٹیوب سے کمائی کے خواہشمند ہوشیار، مونیٹائزیشن کی شرائط مزید سخت ہوگئیں
حامد میر نے انٹرویو نشر کرنے پر اسٹینڈ لیا، عمران خان کے معاملے پر عدلیہ بھی کردار ادا کرے، سہیل آفریدی
پنجاب بھر میں ٹریفک پولیس کے یونیفارم میں تبدیلی، نئی وردی کی منظوری
عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل جائے تو سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، علیمہ خان
امریکا نے ایران سے مذاکرات شروع کرنے کیلئے بھیک مانگی، عباس عراقچی کا بڑا دعویٰ
عالمی و ملکی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کے نرخ مزید بڑھ گئے
Destruction of old construction.
پاکستان کے چار صوبوں کو 20 صوبوں یا انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر اگر عمل درآمد ہو گیا تو اس سے نہ صرف مرکز مضبوط ہو گا اس کی اس وقت اشد ضرورت ہے بلکہ این ایف سی کی گزشتہ دو دہائیوں سے جاری دھونس سے بھی نجات مل جائے گی جس نے وفاقی ڈھانچے کو بے بس کر رکھا ہے اور پھر میثاق جمہوریت کے بعد پنجاب اور سندھ میں جو کھربوں روپے کی کرپشن کی نت نئی داستانیں رقم ہوئیں، جو گل کھلائے گئے اس سے بھی یہ پاکستانی قوم ایک غالب حد تک محفوظ ہو جائے گی۔ معروف بھارتی دانشور اور عدل و انصاف کے حوالے سے منفرد پہچان رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ مرکنڈے سے منسوب انتہائی توجہ طلب جملہ کچھ اس طرح سے ہے
For new construction, there is always the destruction of old building.
“کسی بھی نئی تعمیر کے لیے ہمیشہ پرانی تعمیر کو ملیا میٹ کرنا پڑتا ہے”
معروف مفکر اور داعی اسلام ڈاکٹر اسرار احمد کہتے ہیں کہ قرآن مجید ایک سمندر ہے اور جس کی جتنی بساط ہوتی ہے وہ اتنا ہی اس سے سیر ہو سکتا ہے۔ شیخ سعدی شیرازی سے منسوب ایک حکایت کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے۔”بارش کا پانی ایک جیسا برستا ہے کہ بارش کے تمام قطروں کی کیمسٹری ایک جیسی ہوتی ہے مگر بارش کا یہی قطرہ اگر سانپ کے منہ میں چلا جائے تو زہر بناتا ہے اور اگر سیپ کے منہ میں چلا جائے تو موتی بناتا ہے۔ اگر اعلیٰ قسم کی زمین پر برسے تو بہترین فصل اُگاتا ہے اور اگر شورہ زدہ زمین پر پڑے تو زہر آلود گھاس اُگاتا ہے جسے کھانے سے جانور مر بھی سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر کلاس میں استاد ایک ہی جیسا پڑھاتا ہے کوئی اس سے پڑھ کر 80 ،90 فیصد نمبر لے جاتا ہے اور کوئی اسی سے پڑھ کر برے طریقے سے فیل ہو جاتا ہے۔ اس میں استاد کا تو قصور نہیں، قصور تو اس کا ہے جو کہ Receiving end پر بیٹھا ہے۔
اپنے ہمسایہ ملک بھارت کو ہی دیکھ لیں کہ دو فنکار، جن میں سے ایک مزاحیہ فنکار ہے جسے نٹ بھی کہا جاتا ہے،بھگونت مان نامی اس وزیراعلیٰ پنجاب نے انتہائی قلیل عرصے میں بھارتی پنجاب کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اور وہ بھارتی پنجاب جو شعبہ تعلیم میں آخری درجوں میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں آتا تھا وہ محض تین سال میں پہلے درجے پر وکٹری سٹینڈ پر پہنچ چکا ہے جبکہ بارڈر کے اس طرف ڈھلتے سورج کے پنجاب میں جس طرح سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کا قتل عام کیا جا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ محض ایک شخص نے تین سال کے عرصے میں اپنے صوبے کی عوام کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے اور انہی تین سالوں میں ہمارے پنجاب میں جو کچھ ہوا ہے اور جس طرح ہاف فرائی اور فل فرائی جیسی ظالمانہ اصطلاحات رواج پا چکی ہیں، جس قسم کی لا قانونیت اور شخصی آمریت یہاں سرایت کر چکی ہے اس نے ڈھلتے سورج کے پنجاب کو مزید اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ ادھر کا وزیراعلیٰ عوام میں کھلے عام پھرتا ہے اور ہمارے ہاں دو صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ان کی کابینہ کے ممبران بھی بمشکل سے مل سکتے ہیں۔ رہا پنجاب کا معاملہ تو یہاں دہائیوں سے سیاست کرنے والوں کو اس دور میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ارد گرد موجود دو تین خواتین کی دن رات خوشامد میں مصروف دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت میں’’حکمران خاندان‘‘ کا لفظ کہاں استعمال ہوتا ہے جو پاکستان میں ہرچنیدہ دانشور‘‘ور ہر’’پسندیدہ اینکر‘‘ انتہائی ڈھٹائی سے استعمال کرتا ہے۔
یہ بات لاہور یا اسلام آباد میں موجود بااختیار کسی طور پر سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ دیگر صوبوں کی عوام عام پنجابی کو برا بھلا کیوں کہتی ہے اور گالی کیوں دیتی ہے حالانکہ عام پنجابی کے ساتھ تو ان کا واسطہ ہی نہیں پڑتا۔ ان کا واسطہ پڑتا ہے تو پنجابی بیوروکریٹ سے، پنجابی اشرافیہ سے اور پنجابی نوکر شاہی سے۔ آج سے 25 سال قبل جب میں اسلام آباد کے ایک قومی اخبار کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھا تو یہ جملہ ملک بھر سے اپنے مسائل کے حل کے لیے مختلف دفاتر اور وفاقی وزارتوں کے سیکریٹریٹس جانے والے لوگوں سے اکثر سننے کو ملتا تھا۔ اللہ کرے کسی پٹھان یا سندھی افسر سے واسطہ پڑے تو کام بھی سستے میں ہو جائے گا اور یقینی طور پر ہو بھی جلد جائے گا مگر اللہ کرے کسی پنجابی افسر کے پاس ہمیں جانا نہ پڑے۔ ان دنوں پنجابی اور لاہوری ہونے کے ناطے میرے لیے یہ جملہ بہت تکلیف دہ ہوا کرتا تھا اور میں اسے انتہائی منفی انداز میں لیتا تھا مگر پھر 2008 ء میں جب ایک قومی سطح کے نیوز چینل سے وابستگی ہوئی اور اس چینل کے نیٹ ورک کے ملک بھر میں قیام کے لیے مجھے پاکستان کے کونے کونے میں جانا پڑا پھر ہر طبقے، ہر قومیت اور ہر خطے کے لوگوں سے واسطہ بڑھا اور ان سے نشست و برخاست ہوتی رہی تو اندازہ ہوا کہ 25سال پہلے اسلام آباد میں جو جملہ عام سننے کو ملتا تھا وہ کتنی تلخ حقیقت پر مبنی تھا۔ اب بھی میرے لاہور اور اپر پنجاب سے تعلق رکھنے والے دوست میری اس قسم کی تبدیل شدہ رائے پر ناراض ہوتے ہیں جبکہ میرے ایک بہت ہی درینہ پیارے اور سالہا سال پر محیط گہرا تعلق رکھنے والے دوست ارشد چوہدری تو بڑی پیچیدہ دلیلوں کے ساتھ مجھے ناک آؤٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ میں تھک ہار کر انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ میری جان، تمہیں اپنے کاروباری سلسلے میں دنیا بھر میں تو روٹین میں جانا پڑتا ہے مگر تمہیں پاکستان کے کونے کونے میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ورنہ میری طرح تمہاری سوچ بھی تبدیل ہو جاتی
میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ بہت مشکل کام ہے کہ ایک موقع پر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کہا تھا کہ ملک بنانے آسان اور صوبے بنانے مشکل، تاہم اگر پاکستان کی مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ چار صوبوں کو 20 انتظامی یونٹس یا صوبوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اس کا سب سے خوبصورت اور صحت مند نتیجہ تو یہ نکلے گا کہ پنجابی اشرافیہ اور پنجابی بیوروکریسی کی حماقتوں،تکبر اور کروفر کی وجہ سے جو عام پنجابی کو گالی پڑتی ہے وہ یکسر ختم ہو جائے گی اس کے ساتھ ہی صوبائی عصبیت بھی اپنی موت آپ مر جائے گی۔
شیئر کریں
:مزید خبریں
آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط متوقع، حکومت نے تیاریاں تیز کردیں
یوٹیوب سے کمائی کے خواہشمند ہوشیار، مونیٹائزیشن کی شرائط مزید سخت ہوگئیں
حامد میر نے انٹرویو نشر کرنے پر اسٹینڈ لیا، عمران خان کے معاملے پر عدلیہ بھی کردار ادا کرے، سہیل آفریدی
پنجاب بھر میں ٹریفک پولیس کے یونیفارم میں تبدیلی، نئی وردی کی منظوری
عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل جائے تو سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، علیمہ خان
امریکا نے ایران سے مذاکرات شروع کرنے کیلئے بھیک مانگی، عباس عراقچی کا بڑا دعویٰ