عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل جائے تو سیاسی گفتگو نہیں کریں گے، علیمہ خان

راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے، ملاقات کی اجازت ملنے کی صورت میں نہ کسی کا نام لیا جائے گا اور نہ ہی سیاسی گفتگو کی جائے گی۔
اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر بہنوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق مختلف خبریں ٹاوٹس کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق پہلے بلڈ پریشر بڑھنے کی خبریں سامنے آئیں اور بعد میں کسی بڑے نقصان کی بات کی جا سکتی ہے، جو بقول ان کے ایک طرح کا ’’ٹیسٹ رن‘‘ معلوم ہوتا ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں صبح ایک ایسی خبر بھی موصول ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ختم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق مختلف دعوے سامنے آرہے ہیں، جبکہ انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کی بلڈ پریشر کی دوا کی خوراک دوگنی کردی گئی ہے، حالانکہ ان کے مطابق عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اندر سے پھیلائی جانے والی اطلاعات کے باعث خاندان کے لیے عمران خان کی صحت کے حوالے سے درست صورتحال جاننا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صحت سے متعلق خبروں میں حقیقت ہوتی تو ایسی اطلاعات مسلسل گردش میں نہ رہتیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ وہ ہر ہفتے اس امید کے ساتھ اڈیالہ جیل آتی ہیں کہ شاید ملاقات کی اجازت مل جائے۔ حالات میں تبدیلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں 27 ستمبر سے قبل لوگوں کے باہر نکلنے کی توقع ہے، جبکہ ان کے مطابق 14 اگست کو ڈی چوک کی کال دینے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کی تاریخ اپنی جگہ موجود ہے جبکہ 14 اگست کے حوالے سے بھی کال دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی جانب سے کبھی سیاسی گفتگو نہیں کی گئی اور اگر ملاقات کی اجازت دی گئی تو آئندہ بھی سیاسی معاملات پر بات نہیں کریں گی۔
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان ان کے بھائی ہیں اور ان کا پیغام ان کے لیے اہم ہے۔ کسی سرکاری افسر کا نام لینے کو سیاست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کے معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں کے حوالے سے ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ موجود ہے، اس لیے سپرنٹنڈنٹ کو درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ پارٹی کے اندر اختلافات کو معمول کی بات قرار دیتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے اور اختلاف رائے ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ کی مبینہ آڈیو کے حوالے سے علیمہ خان نے کہا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں اور یہ ان کے لیے غیر متعلقہ معاملہ ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ احتجاج یا کال دینے کا فیصلہ پارٹی کا اختیار ہے اور پارٹی نے اپنی کال دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ کے ذریعے عمران خان کے لیے چار کتابیں بھیجی گئی تھیں، جو واپس موصول ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارچ سے ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرکے ان کا علاج ذاتی ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔ ان کے مطابق جب خاندان کو عمران خان کی صحت کے بارے میں براہِ راست معلومات ہی حاصل نہیں تو وہ گردش کرنے والی خبروں کی تصدیق یا تردید کیسے کر سکتے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں