ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال میں آکسیجن پلانٹ کی تنصیب کا کام اکتوبر میں مکمل ہوگا، سالانہ 3 سے 4 کروڑ روپے کی بچت متوقع ،نشتر ہسپتال ملتان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل حاصل ہونے کے قریب ہے۔ زیرِ تعمیر آکسیجن پلانٹ رواں سال اکتوبر کے وسط تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف مریضوں کو بلاتعطل آکسیجن کی فراہمی یقینی بنے گی بلکہ ہسپتال کو سالانہ 3 سے 4 کروڑ روپے کی بچت بھی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور وزارت قومی صحت کے وفد نے نشتر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر راؤ امجد علی خاں سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں آکسیجن پلانٹ کی تکمیل، کاپر پائپ لائن اور بیڈ ہیڈ یونٹ کی تنصیب کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ترجمان نشتر ہسپتال کے مطابق، ایم ایس ڈاکٹر راؤ امجد کی تجویز پر کاپر پائپ لائن اور بیڈ ہیڈ یونٹ کا کام بھی اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وفد نے ایم ایس کو اس حوالے سے مکمل یقین دہانی کرائی۔ آکسیجن پلانٹ کی کمیشننگ اور عملے کی تربیت 3 ہفتوں میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے بعد پلانٹ باضابطہ طور پر مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنا شروع کر دے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر راؤ امجد علی خاں نے کہا کہ “پلانٹ کے فعال ہونے کے بعد نشتر ہسپتال سالانہ 3 سے 4 کروڑ روپے بچت کرے گا۔ یہ رقم مریضوں کو ادویات کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ “مریضوں کو بلاتعطل آکسیجن ملے گی، جس سے جان بچانے والے علاج میں بہتری آئے گی۔”واضح رہے کہ یہ منصوبہ یو این ڈی پی اور حکومت پاکستان کے اشتراک سے 36 سرکاری اسپتالوں میں آکسیجن جنریشن پلانٹس لگانے کے وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کووڈ-19 کی وبا کے دوران سامنے آنے والی آکسیجن کی کمی کو پورا کرنا اور ملک میں طبی آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔یہ منصوبہ نہ صرف آلات کی تنصیب تک محدود ہے بلکہ اس میں طبی اور تکنیکی عملے کی تربیت، تھرڈ پارٹی نگرانی میں کمیشننگ، اور طویل مدتی دیکھ بھال کے لیے مقامی انتظامیہ کو حوالگی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، شمسی توانائی سے چلنے والے ایئر کنڈیشننگ سسٹمز اور ادویات کے ذخیرے کو بہتر بنانے کے لیے جدید گوداموں کی تنصیب بھی اس پروگرام کا حصہ ہے۔ڈاکٹر راؤ امجد علی خاں نے اس موقع پر کہا کہ “آکسیجن پلانٹ کی تنصیب نشتر اسپتال کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ اس سے نہ صرف مریضوں کو بہترین سہولیات ملیں گی بلکہ اسپتال کا بجٹ بھی دیگر ضروری شعبوں پر خرچ کیا جا سکے گا۔ واضح رہے کہ نشتر اسپتال جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا تدریسی اسپتال ہے جہاں روزانہ 4 سے 5 ہزار مریض آؤٹ ڈور میں اور 3 ہزار ایمرجنسی کیسز آتے ہیں۔ ہسپتال کو درپیش مالی مشکلات کے پیش نظر آکسیجن پلانٹ کی تنصیب ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اسپتال کا ایک بڑا حصہ مائع آکسیجن کی خریداری پر خرچ ہوتا تھا۔یو این ڈی پی کے اس منصوبے کے تحت 36 آکسیجن پلانٹس کی تنصیب پر 52 ملین ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں، جو مارچ 2022 سے دسمبر 2026 تک جاری رہے گا۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان کی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا اور مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔







