لاہور میں تھانہ غازی آباد کے اندر ایک خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد پولیس کے اندر بڑی کارروائی سامنے آئی ہے۔ ذرائع اور پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث اے ایس آئی عمران کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ غفلت اور نگرانی میں ناکامی پر ایس ایچ او سمیت پورے تھانے کے 78 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون، جو ذہنی طور پر کمزور بتائی جاتی ہے، کو اے ایس آئی عمران مبینہ طور پر موٹر سائیکل پر تھانہ غازی آباد لے کر آیا۔ گیٹ پر تعینات سنتری کے استفسار پر اے ایس آئی نے بتایا کہ خاتون ایک ملزمہ ہے اور تفتیش کے لیے لائی گئی ہے۔ بعد ازاں اسے انویسٹی گیشن روم میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزم بعد میں خاتون کو واپس اس کے علاقے میں چھوڑ آیا۔ دوسری جانب خاتون کے اہل خانہ اس کی گمشدگی کی اطلاع دینے تھانے پہنچے، تاہم اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ وہ گھر واپس آ چکی ہے۔
واقعے کے بعد محکمہ پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے انچارج انویسٹی گیشن کو بھی معطل کر دیا، جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی ہدایت پر ایس ایچ او سمیت تھانے کے 78 اہلکاروں کی معطلی کا حکم جاری کیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایک تھانے میں مختلف یونٹس اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، لیکن مجموعی نظم و ضبط اور تھانے کے ماحول کی ذمہ داری ایس ایچ او پر عائد ہوتی ہے، اس لیے تھانے میں ہونے والی ہر سرگرمی کی جوابدہی بھی اسی کی ہوتی ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔







