ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال میں جعلی ڈاکٹر نے مریضوں کے لواحقین سے پیسے مانگے، سکیورٹی نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔نشتر ہسپتال ملتان میں ایک شخص نے سفید کوٹ پہن کر خود کو ڈاکٹر ظاہر کیا اور مریضوں کے لواحقین سے علاج معالجے کے نام پر پیسے مانگنے لگا۔ تاہم ہسپتال سکیورٹی کی چوکسی نےسے حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا۔تفصیلات کے مطابق، ملزم محمد نوید ولد محمد ادریس، جو علی والا ملتان کا رہائشی ہے، سفید کوٹ پہن کر نشتر ہسپتال میں داخل ہوا اور خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتے ہوئے مریضوں کے لواحقین سے علاج معالجے کے نام پر رقم کا مطالبہ کرنے لگا۔ہسپتال سیکیورٹی کو شبہ ہونے پر چوکس اہلکاروں نے اس کی حرکتوں پر نظر رکھی اور موقع پر ہی اسے پکڑ لیا۔ چیف سیکیورٹی سپروائزر سرفراز احمد نے ملزم کو تحویل میں لے کر تھانہ کینٹ پولیس کے حوالے کر دیا۔پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ملزم سے اس کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہی ہے کہ وہ کس طرح ہسپتال میں سفید کوٹ پہن کر داخل ہوا اور مریضوں کو نشانہ بناتا رہا۔واضح رہے کہ نشتر ہسپتال ملتان میں جعلی ڈاکٹروں کے داخل ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف اوقات میں ہسپتال سے متعدد جعلی ڈاکٹر گرفتار کیے جا چکے ہیں، ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جعلی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا اور کسی کو بھی مریضوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔







