اسلام آباد: ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادہ ہے، جبکہ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر دونوں ممالک نے اپنے اپنے مؤقف ثالث ممالک کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان سفارتی اقدامات کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کرنا ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ وہ اسلام آباد میمورنڈم کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحا یا اسلام آباد میں مذاکرات کے نئے دور کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران مذاکرات کے دوران سب سے پہلے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد اپنے منجمد مالی اثاثوں اور پھر جوہری پروگرام سے متعلق امور زیرِ بحث لانے کا خواہاں ہے۔ تاہم ایران نے آبنائے ہرمز میں کسی نئی بحری راہداری کے قیام کی مخالفت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
یہ سفارتی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکا کی جانب سے ایران پر کوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ ایران نے بھی خطے میں موجود امریکی اہداف کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی کہ گزشتہ دو راتوں کے دوران امریکا کی جانب سے ایران پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ایران کی حکمت عملی جوابی ردِعمل پر مبنی ہے، اس لیے حملے نہ ہونے کی صورت میں ایران نے بھی اپنی فوجی سرگرمیاں روک رکھی ہیں۔







