کییف: یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایران روس کو ہتھیار فراہم کرکے پہلے ہی یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ممکنہ نئے خطرات کے پیشِ نظر ہر وقت تیار رہنا ضروری ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران جب زیلنسکی سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران اپنے حالیہ واقعات کے بعد یوکرین پر براہِ راست حملہ کر سکتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ موجودہ حالات میں مکمل احتیاط اختیار کرنا ہوگی تاکہ جنگ کا کوئی نیا محاذ نہ کھل سکے۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ایران اور شمالی کوریا پہلے ہی مختلف انداز میں یوکرین کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ممالک اپنے اقدامات میں مزید اضافہ نہیں کریں گے، تاہم یوکرین کو ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
یوکرینی صدر نے الزام عائد کیا کہ جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے روس کو ہزاروں شاہد (Shahed) ڈرونز فراہم کیے، جبکہ بعد ازاں ان ڈرونز کی مقامی تیاری کے لیے لائسنس بھی روس کو دیے گئے، جس سے ایران عملی طور پر اس جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔







