آزاد کشمیر انتخابات: ووٹرز کی کم شرکت انتخابی عمل پر سوالیہ نشان، پی ٹی آئی کا مؤقف-آزاد کشمیر انتخابات: ووٹرز کی کم شرکت انتخابی عمل پر سوالیہ نشان، پی ٹی آئی کا مؤقف-بابراعظم کی ٹیسٹ سنچری کا انتظار طویل، 33 اننگز گزرنے کے باوجود تین ہندسوں تک نہ پہنچ سکے-بابراعظم کی ٹیسٹ سنچری کا انتظار طویل، 33 اننگز گزرنے کے باوجود تین ہندسوں تک نہ پہنچ سکے-ایران مذاکرات بحال کرنے پر آمادہ، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت-ایران مذاکرات بحال کرنے پر آمادہ، پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت-دریائے چناب میں پانی کا خطرناک بہاؤ، جلالپورپیروالا میں بند ٹوٹ گیا، 5 بستیاں زیرِ آب-دریائے چناب میں پانی کا خطرناک بہاؤ، جلالپورپیروالا میں بند ٹوٹ گیا، 5 بستیاں زیرِ آب-ایران امریکا کشیدگی میں کمی کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد سے زائد سستا-ایران امریکا کشیدگی میں کمی کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد سے زائد سستا

تازہ ترین

مغربی پالیسیوں نے روس کو یوکرین پر کارروائی پر مجبور کیا، ولادیمیر پوٹن کا دعویٰ

ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک بار پھر یوکرین جنگ کے آغاز کا ذمہ دار مغربی ممالک کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے اپنی سلامتی کے خدشات کے باعث فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی بحریہ کے اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پوٹن نے کہا کہ یوکرین میں شروع کیے گئے “خصوصی فوجی آپریشن” کا فیصلہ مغربی ممالک کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے ردعمل میں کیا گیا۔
پوٹن کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتوں نے ماضی میں کیے گئے ان وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جن میں نیٹو کو مشرقی سمت مزید وسعت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس کے بارہا تحفظات کے باوجود نیٹو کی توسیع کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
روسی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ ان حالات میں ماسکو کے پاس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوجی کارروائی شروع کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں