چین کی معاشی ترقی اور ایشیا میں پائی جانے والی ایسی معدنیات جو کہ موجودہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتی ہیں، کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں سے یہ کہا اور مانا جاتا ہے کہ موجودہ صدی ایشیا کی ترقی کی صدی ہے۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ امریکی اندازوں کے مطابق چین نے 2025ء تک جس مقام پر پہنچنا تھا وہ اپنے طے شدہ ٹارگٹ سے 12 سال قبل 2013ء میں ہی وہاں پہنچ چکا تھا دوسری طرف روس نے جو اپنی منزل 2050ء میں حاصل کرنی تھی وہ 32 سال پہلے ہی 2018ء تک حاصل کر لی۔ یہ دنیا کی واحد سپر پاور کیلئے ایک چیلنج تھا۔ چین کے سابق صدر ڈنگ زیاؤ پنگ نے سنگا پور کے راہنما لی کوان یو سے مشورہ کیا کہ چین کیسے ترقی کرکے غربت سے چھٹکارہ حاصل کر سکتا ہے تو اس نے کہا دوسرے ملکوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت کرنا چھوڑ دیں اور صرف اپنے ملک کے معاملات پر توجہ دیں۔ مجھے یاد ہے روس کے علاوہ چین سے رسالے پاکستان میں سوشلزم اور کمیونزم کی حمایت میں آیا کرتےتھے اور اسی دور میں سرخ انقلاب کے حامیوں میں چین نواز اور روس نواز کی اصطلاح استعمال ہوا کرتی تھی مگر پھر ڈنگ زیاؤ پنگ نے چینی ترقی کیلئے دوسرے ممالک میں انقلاب برامد کرنا اور مداخلت کرنا بند کر دیا۔ پہلا 10سالہ منصوبہ بنایا اور اس پر عمل درامد کرایا۔ اسی طرح ہر دس سال بعد ترجیحات کا تعین کیا جاتا رہا اور اس پر سختی سے عمل ہوتا رہا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے مگر امریکی منصوبوں کو روکنے کیلئے چین نے متاثرہ ملکوں کو معاشی ترقی کی راہ دکھائی، جس میں پاکستان میں سی پیک کا منصوبہ شامل ہے اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی سڑک اور ریل کے ذریعے ترقی کا ماڈل پیش کرکے ان کی بنیاد رکھی گئی۔
ہمیشہ سے دوہرا معیار رکھنے والے امریکہ نے ایران پر سخت معاشی پابندیوں کے باوجود بھارت کو ایران سے سستا تیل درآمد کرنے کی اجازت دیے رکھی جبکہ یہ سہولت پاکستان کیلئے بلکل بھی نہ تھی۔ حالانکہ زرداری کی صدارت کے پہلے دور کے آخری دنوں میں ایران اور پاکستان میں گیس پائپ لائن کا معاہدہ طے پایا ۔ ایران نے بھارت اور چین کو تیل برآمد کرکے اپنی معیشت کو سنبھالا دیے رکھا۔ پاکستان ایران کے تعلقات اس دور میں مثالی نہیں رہے۔ ایران نے بھارت کو چاہ بہار کی بندر گاہ بنانے کا بھی کام سونپ دیا۔ امریکہ نے بھارت کو ترقی کے بھرپور مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھا جبکہ پاکستان امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران سے سستا پیٹرول اور گیس حاصل نہ کر سکا۔ رہی سہی کسر آئی پی پیز کے بجلی کے ظالمانہ اور احمقانہ معاہدوں نے پوری کر دی جس کی وجہ سے پاکستانی عوام اور حکومت کی معاشی حالت دن بدن برباد ہوتی گئی۔
گزشتہ برس کی پاک بھارت جنگ میں بلاشبہ پاکستانی جانبازوں نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور چین کی تکنیکی امداد بھی پاکستان کو حاصل تھی مگر اس جنگ کو بنیاد بنا کر نریندر مودی کی پارٹی نے بہار اور مغربی بنگال کے صوبائی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی۔ مودی کے دور میں بھارتی ساہوکاروں نے ایران سے سستا تیل خرید کر کھربوں ڈالر بچائے اور کمائے جو مودی کی انتخابی مہم میں بھی کام آئے اور گودی میڈیا نے ہندوتوا کے بیانیے کو بھارتی ہندووں کی اکثریت کے دماغوں میں بھرپور طریقے سے بھر دیا۔
اس جنگ میں امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کرانے کا سہرا اپنے سر باندھا اور پاکستان نے بھی جنگ بندی میں ٹرمپ کے کردار کی اتنی تعریف کی کہ اسے نوبل انعام کیلئے نامزد کر دیا۔ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کی بے عزتی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ہم ظاہر ہے کہ مودی کی بے عزتی پر بہت خوش تھے اور ہیں۔ موجودہ ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ میں ایرانی دوستی کو پس پشت ڈال کر بھارت کھل کر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو گیا جس پر خود ہندوستان کے دانشور طبقہ نے مودی پر کڑی تنقید کی اور بھارت میں اسے نریندر مودی کی بجائے سرنڈر مودی کے نام سے پکارا جانے لگا۔
طالبان حکومت نے بھی اس جنگ میں امریکہ یا اسرائیل کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا بلکہ افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا۔ بلوچستان میں دہشت گردوں کی پرانی پناہ گاہیں جو کہ ایران میں تھی اس میں کمی آئی تو طالبان نے BLA کے ساتھ مل کر بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ اور بھی تیز کر دیا جو کہ اس وقت خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے۔
سمجھ نہیں آتا اسرائیل کا قریبی دوست مودی امریکی صدر کے زیر عتاب کیسے ہوسکتا ہے۔ میرے ذہن میں چند سوالات کا ابھرنا فطری ہے۔ کیا کے پی کے اور بلوچستان میں جاری دہشت گردی صرف بھارت ،اسرائیل،یو اے ای کی مدد سے ہورہی ہے اور اسے امریکی آشیرباد حاصل نہیں۔ کیا پاک بھارت حالیہ جنگ اور گزشتہ ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ کے بعد پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ اس علاقہ میں شروع ہونے والی گریٹ گیم کو روکنے کیلئے کیا گیا۔ کیا امریکہ خلیج میں اپنی موجودگی اور عرب ریاستوں کے حفاظتی کردار سے دستبردار ہوکر ان ممالک س بھاری بھتہ کی وصولی سے دستبردار ہورہا ہے۔ کیا پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے درمیان بھی علاقائی سلامتی کیلئے اتحاد زیر بحث ہے وہ کس کے خلاف بنایا جارہا ہے۔ کیا ایران بھی اس اتحاد کا حصہ بنا جائے گا اور امریکہ (جس پر یہودی سرمایہ داروں کا بہت اثر ہے) اسرائیل کی حفاظت اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم سے لاتعلق ہوجائے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ایم او یو میں بھی 14نکات پر اتفاق ہوا ہے اس میں آبنائے ہرمز کو ایران اور امان کا علاقہ تسلیم کیا گیا۔ ایران کی فتح اور امریکہ کی شکست سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح بھارت اور پاکستان میں مسلہ کشمیر برطانوی سامراج نے پیدا کرکے دونوں ملکوں کے درمیان مستقل دشمنی کی بنیاد رکھی تھی کیا اسی طرح امریکہ نے آبنائے ہرمز کا مسئلہ پیدا کرکے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مستقل جھگڑے کی بنیاد نہیں رکھ دی ہے۔
کیا ایرانی صدر اور اس کے ساتھی اور ہمسایہ عرب ممالک کسی پرامن معاہدہ پر پاسداران کے سخت رویہ کے باوجود پہنچ پائیں گے۔ اور ہمارے فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سعودی عرب اور قطر پر ایرانی پاسداران کے ڈرون حملوں کے بعد ان ممالک کو بردباری کا مشورہ دے پائیں گے۔ امریکہ تو ہزاروں کلو میٹر دور ہے وہ اپنے پس پردہ مقاصد پورا کرنے کیلئے کیا ایران اور خلیجی ممالک میں امن کی کوششوں کو ہضم کرلے گا۔خدانخواستہ اگر ابنائے ہرمز کے معاملہ میں ایران اور عرب ریاستوں میں کشیدگی بڑھ گئی تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کی موجودگی میں کہاں کھڑا ہو گا۔







