ملتان( سپیشل رپورٹر) ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن (اسٹیبلشمنٹ) کے اضافی چارج پر سیف اللہ خان کی تعیناتی کے بعد ادارے کے اندر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے کے خلاف افسران اور ملازمین کے ایک گروپ کی جانب سے “فارورڈ بلاک” تشکیل دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق ایم ڈی اے کے سربراہ (ڈی جی) اپنے ہی ماتحت افسران کی جانب سے متعدد انتظامی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے اور اندرونی اختلافات کے باعث دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض افسران ادارے میں حالیہ انتظامی فیصلوں پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق 11 مئی 2026ء کو ڈپٹی ڈائریکٹر (جی آئی ایس) سیف اللہ خان کو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن (اسٹیبلشمنٹ) کا اضافی چارج بھی سونپا گیا۔ اس فیصلے پر ملازمین اور بعض افسران نے اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ افسر کا شعبۂ انتظامیہ میں عملی تجربہ نہیں، جبکہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت تکنیکی اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (GIS) سے متعلق ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ انتظامی فیصلوں کے باعث ملازمین میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتظامی امور کے لیے متعلقہ شعبے، بالخصوص انتظامی یا فنانس پس منظر رکھنے والے افسر کی تعیناتی زیادہ موزوں ہوگی تاکہ ادارے کے انتظامی معاملات بہتر انداز میں چلائے جا سکیں۔ادھر گزشتہ روز لیبر کورٹ نمبر 9 میں پیشی کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر (جی آئی ایس) سیف اللہ خان پر تین نامعلوم افراد کے مبینہ حملے، تشدد اور سرکاری دستاویزات چھیننے کی کوشش کا واقعہ بھی پیش آیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے تھانہ بہاؤالدین زکریا میں ایف آئی آر نمبر 896/26 درج کرا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے نے ایم ڈی اے کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔بعض ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مذکورہ تعیناتی کے احکامات ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے سے دباؤ کے تحت جاری کرائے گئے، تاہم اس حوالے سے ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس معاملے میں یونین یا سیاسی دباؤ بھی کارفرما ہو سکتا ہے، تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔شہری حلقوں اور بعض ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم ڈی اے میں تقرریوں اور اضافی چارجز کے معاملات میرٹ، تجربے اور قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیے جائیں تاکہ ادارے میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو اور انتظامی نظام مؤثر انداز میں چل سکے۔







