موسیٰ پاک ایکسپریس میں مبینہ کرپشن، غیرقانونی تعیناتیوں کابھی انکشاف

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان ریلوے ملتان ڈویژن کی موسیٰ پیک ایکسپریس (115 اپ/116 ڈاؤن) میں تعینات بعض ٹرین عملے سے متعلق سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد اہلکار طویل عرصے سے اپنی پسند کی تعیناتیوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ قواعد و ضوابط کے برعکس تعیناتیوں، مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور مائلیج کلیمز کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایس ٹی ای عمران اختیار طویل عرصے سے اسی ٹرین پر تعینات ہیں جس پر حالی میں 166/26 ایف ائی ار لاہور تھانے میں درج رجسرڈ ہوئی۔ ، تاہم اس کے باوجود محکمانہ کارروائی یا انکوائری منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ ذرائع کے مطابق عمران اختیار اس وقت عبوری ضمانت پر ہیں، جبکہ ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اسی طرح الزام ہے کہ رانا جاوید گریڈ 16 کی آسامی ڈی ای ایس ٹی ای کا کام انجام دے رہے ہیں، حالانکہ وہ گریڈ 14 کے ایس ٹی ای ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے مختلف ٹرینوں پر اپنی مرضی سے ایس ٹی ای عملہ تعینات کرتے ہیں، جو ریلوے کے سروس رولز اور تعیناتی کے قواعد کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔مزید الزام ہے کہ رانا جاوید اور الیاس انصاری عملی طور پر صرف ملتان تا خانیوال اور خانیوال تا ملتان سفر کرتے ہیں، تاہم مائلیج کلیمز میں دیگر مختلف ریلوے اسٹیشنوں تک سفر ظاہر کرکے ہر ماہ ہزاروں کلومیٹر کے اضافی کلیمز منظور کروائے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں محکمہ ریلوے کو لاکھوں روپے کا مبینہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مائلیج بلوں کی منظوری کے لیے مبینہ طور پر رشوت دی جاتی ہے، جس کے بعد کلیمز پاس کیے جاتے ہیں۔ اگر ان الزامات میں صداقت پائی جاتی ہے تو یہ قومی خزانے کے ساتھ سنگین مالی بے ضابطگی تصور کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق موسیٰ پیک ایکسپریس میں مختلف اوقات کے دوران بعض ایس ٹی ای اہلکار ٹکٹوں کی چیکنگ کے دوران مبینہ طور پر رقم میں غبن کرتے ہوئے بھی پکڑے گئے، تاہم ان کے خلاف مؤثر محکمانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اسی طرح عبدالقادر کے خلاف بھی کارروائی نہ ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ 7 جولائی 2026 کو کنڈکٹر گارڈ راشد نعیم نے مبینہ طور پر بعض مسافروں کو بغیر ٹکٹ سفر کروایا، تاہم اس معاملے میں بھی کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔عوامی اور سماجی حلقوں نے چیئرمین پاکستان ریلوے، چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) پاکستان ریلوے، آئی جی ریلوے پولیس، ڈی جی ویجیلنس، چیف کمرشل منیجر (CCM) اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ موسیٰ پیک ایکسپریس پر گزشتہ کئی برسوں سے ہونے والی تمام تعیناتیوں، ڈیوٹی سمریوں، مائلیج کلیمز، ٹکٹ چیکنگ ریکارڈ اور مالی ادائیگیوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دے کر تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، اور اگر کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف الزامات ثابت ہوں تو پاکستان ریلوے کے Efficiency & Discipline Rules اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کی مکمل رقم ذمہ داران سے وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں