نیٹو اتحاد ٹوٹا تو سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی، طیب اردوان

انقرہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد، باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنائیں، کیونکہ نیٹو کی یکجہتی ہی اجتماعی سلامتی کی ضمانت ہے۔
اپنے خطاب میں صدر اردوان نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں نیٹو کے تمام اتحادیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور بحرِ اوقیانوس کے دونوں اطراف موجود اتحادی ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام یا بیان سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ترک صدر نے کہا کہ نیٹو کی مضبوطی براہِ راست عالمی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے ایسے تمام اختلافات سے بچنا ضروری ہے جو اتحاد کے اندر تقسیم یا کمزوری کا باعث بن سکتے ہوں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ انقرہ میں منعقد ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس عالمی امن، علاقائی استحکام اور رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
اجلاس کے دوسرے روز صدر رجب طیب اردوان اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے مختلف ممالک سے آنے والے سربراہانِ مملکت اور وفود کا استقبال کیا۔ اس موقع پر عالمی رہنماؤں کے درمیان مصافحے، خیرسگالی ملاقاتیں اور گروپ تصاویر بھی بنائی گئیں۔
نیٹو سربراہی اجلاس میں عالمی سلامتی کو درپیش چیلنجز، یوکرین کی موجودہ صورتحال، دفاعی حکمت عملی اور اتحاد کے مستقبل سمیت متعدد اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال جاری ہے۔
ترک ایوانِ صدر کے مطابق اجلاس کے موقع پر صدر اردوان مختلف عالمی رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ترکیہ 1952 سے نیٹو کا رکن ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے اتحاد کے اہم اور فعال رکن ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں