لاہور: دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ کینٹ کچہری لاہور نے مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت چار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید پانچ روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں دوبارہ 13 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں چہروں پر ماسک لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
استغاثہ نے مزید ریمانڈ کی درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے ڈی این اے اور فنگر پرنٹ ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ تحقیقات کے لیے مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی، لیپ ٹاپ، نقد رقم اور اسلحہ برآمد کرنا ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب دو ملزمان کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان شاہد نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکلوں کا مبینہ جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق پولیس کے اپنے مؤقف کے مطابق یہ معاملہ اغوا یا زیادتی کا نہیں بلکہ کرپٹو کرنسی سے متعلق مالی تنازع ہے، اس لیے اس کی تحقیقات فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے چاروں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید پانچ روز کی توسیع کر دی۔
واضح رہے کہ 29 جون کو لاہور میں ہالینڈ اور اسپین سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس مقدمے میں پولیس اب تک نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ایک رشتہ دار سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔
اس سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ اغوا برائے تاوان کے اس مقدمے میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ایک اہم سیاسی شخصیت کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس کیس کی تحقیقات بلاامتیاز اور میرٹ کی بنیاد پر کر رہی ہے۔






