پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر جماعت اسلامی کا 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان-پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر جماعت اسلامی کا 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان-پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت-پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات مزید تیز کیے جائیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت-جنوبی وزیرستان اپر میں پہلی بار خاتون ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کی رکن مقرر، اہم پیش رفت-جنوبی وزیرستان اپر میں پہلی بار خاتون ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کی رکن مقرر، اہم پیش رفت-مصنوعی ذہانت سے تیار ڈیجیٹل اداکارہ فلمی دنیا میں ڈیبیو کے لیے تیار، نئی بحث چھڑ گئی-مصنوعی ذہانت سے تیار ڈیجیٹل اداکارہ فلمی دنیا میں ڈیبیو کے لیے تیار، نئی بحث چھڑ گئی-عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق الزامات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ-عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی سے متعلق الزامات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت سے تیار ڈیجیٹل اداکارہ فلمی دنیا میں ڈیبیو کے لیے تیار، نئی بحث چھڑ گئی

لندن: برطانیہ کی پروڈکشن کمپنی پارٹیکل 6 نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تخلیق کی گئی ڈیجیٹل اداکارہ ٹلی نورووڈ اپنی پہلی فیچر فلم “مس الائنڈ” میں مرکزی کردار ادا کرے گی، جسے فلمی صنعت میں ایک منفرد پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق فلم ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کی کہانی پیش کرے گی جہاں شناخت، شعور اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات کو مزاح اور ڈرامے کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
پارٹیکل 6 کی بانی ایلین وین ڈیر ویلڈن نے بتایا کہ ٹلی نورووڈ کی تخلیق کے لیے ہزاروں مراحل سے گزرنا پڑا، جبکہ فلم کی تیاری میں ہدایت کاروں، مصنفین، ایڈیٹرز، اے آئی ماہرین اور دیگر روایتی فلم سازوں نے مشترکہ طور پر کام کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ٹیکنالوجی ہے، اور بہترین فلم سازی اسی وقت ممکن ہے جب اے آئی اور انسانی مہارت مل کر کام کریں۔
دوسری جانب اس اعلان کے بعد فلمی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اداکاروں کی مختلف تنظیمیں پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ تخلیقی فنون کا اصل محور انسان ہونا چاہیے اور ڈیجیٹل کرداروں کو انسانی فنکاروں کا متبادل نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فلم سازی میں اے آئی کے استعمال سے نئی تخلیقی راہیں کھل سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ فنکاروں کے حقوق، ملازمتوں کے تحفظ اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں