لندن: برطانیہ کی پروڈکشن کمپنی پارٹیکل 6 نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تخلیق کی گئی ڈیجیٹل اداکارہ ٹلی نورووڈ اپنی پہلی فیچر فلم “مس الائنڈ” میں مرکزی کردار ادا کرے گی، جسے فلمی صنعت میں ایک منفرد پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق فلم ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کی کہانی پیش کرے گی جہاں شناخت، شعور اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات کو مزاح اور ڈرامے کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
پارٹیکل 6 کی بانی ایلین وین ڈیر ویلڈن نے بتایا کہ ٹلی نورووڈ کی تخلیق کے لیے ہزاروں مراحل سے گزرنا پڑا، جبکہ فلم کی تیاری میں ہدایت کاروں، مصنفین، ایڈیٹرز، اے آئی ماہرین اور دیگر روایتی فلم سازوں نے مشترکہ طور پر کام کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ٹیکنالوجی ہے، اور بہترین فلم سازی اسی وقت ممکن ہے جب اے آئی اور انسانی مہارت مل کر کام کریں۔
دوسری جانب اس اعلان کے بعد فلمی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اداکاروں کی مختلف تنظیمیں پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ تخلیقی فنون کا اصل محور انسان ہونا چاہیے اور ڈیجیٹل کرداروں کو انسانی فنکاروں کا متبادل نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فلم سازی میں اے آئی کے استعمال سے نئی تخلیقی راہیں کھل سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ فنکاروں کے حقوق، ملازمتوں کے تحفظ اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔







