مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-مصباح الحق نیپال پریمیئر لیگ کی ٹیم سودرپسچم رائلز کے ہیڈ کوچ مقرر-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-معدنیات نکال کر فروخت بھی کریں گے، صوبے کی ترقی کیلئے وسائل بروئے کار لانا ضروری ہے: گورنر کے پی-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-سید حیدر شاہ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نیا مستقل مندوب تعینات کرنے کا فیصلہ-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-پاکستان ہاکی ٹیم سلطان ازلان شاہ کپ میں شرکت کرے گی، پی ایچ ایف صدر کی تصدیق-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز-ہوائی قلعے نہیں بنائے، مستحق افراد کو اپنی چھت فراہم کی، پنجاب کیلئے خدمات عالمی سطح پر تسلیم ہوئیں: مریم نواز

تازہ ترین

مصنوعی ذہانت سے تیار ڈیجیٹل اداکارہ فلمی دنیا میں ڈیبیو کے لیے تیار، نئی بحث چھڑ گئی

لندن: برطانیہ کی پروڈکشن کمپنی پارٹیکل 6 نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تخلیق کی گئی ڈیجیٹل اداکارہ ٹلی نورووڈ اپنی پہلی فیچر فلم “مس الائنڈ” میں مرکزی کردار ادا کرے گی، جسے فلمی صنعت میں ایک منفرد پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق فلم ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کی کہانی پیش کرے گی جہاں شناخت، شعور اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات کو مزاح اور ڈرامے کے امتزاج کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
پارٹیکل 6 کی بانی ایلین وین ڈیر ویلڈن نے بتایا کہ ٹلی نورووڈ کی تخلیق کے لیے ہزاروں مراحل سے گزرنا پڑا، جبکہ فلم کی تیاری میں ہدایت کاروں، مصنفین، ایڈیٹرز، اے آئی ماہرین اور دیگر روایتی فلم سازوں نے مشترکہ طور پر کام کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ٹیکنالوجی ہے، اور بہترین فلم سازی اسی وقت ممکن ہے جب اے آئی اور انسانی مہارت مل کر کام کریں۔
دوسری جانب اس اعلان کے بعد فلمی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اداکاروں کی مختلف تنظیمیں پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہیں کہ تخلیقی فنون کا اصل محور انسان ہونا چاہیے اور ڈیجیٹل کرداروں کو انسانی فنکاروں کا متبادل نہیں بنایا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فلم سازی میں اے آئی کے استعمال سے نئی تخلیقی راہیں کھل سکتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ فنکاروں کے حقوق، ملازمتوں کے تحفظ اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں