تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر ایران کے خلاف دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسی برقرار رہی تو امریکا کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک دھمکی آمیز رویہ ختم نہیں ہوتا، ایران حتمی معاہدے کے لیے مذاکراتی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ معاہدے پر کیے گئے دستخط اور اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور طے شدہ نکات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اور ملک کی مسلح افواج کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکی یا خوف کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں شہریوں کی شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ ایرانی قوم اپنے قومی نظریات اور اصولوں پر متحد ہے اور اپنے رہنماؤں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہونا اب بھی ایک بڑا امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔







