وزیراعلیٰ جنوبی پنجاب کے تعلیمی نظام پر برہم، صوبائی وزیر تعلیم سے وضاحت طلب

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری بہاولپورنےمیڑٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریٹائرڈ کماؤ پتر اساتذہ کرام کو سرکاری سکولوں کے امتحانی سینٹروں پر سپرنٹنڈنٹ اور من پسند اساتذہ کرام کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تعینات کرکے سرکاری تعلیمی ادارے لاکھوں میں فروخت کئے،ضلع رحیم یارخان کے سرکاری سکولوں کے سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے کرپٹ کلرکوں کے ذریعے آؤٹ سائیڈرز اور بوٹی مافیا سے”انڈرٹیبل”ڈیلز کیں،امتحانی سینٹروں میں خفیہ کمرے الاٹ فی پرچہ 5 سے 7 ہزار میں حل کرائے گئے،بوٹی مافیا کی فیس ادا نہ کرنے والے طالبعلموں کو اساتذہ معاونت کرتے ہوئے فی پرچہ 1000میں حل کرایا ،امتحانی مراکز پر بوٹی مافیا کا راج،خفیہ مانیٹر ٹیموں نے صوبائی وزیر تعلیم کی کرپشن فری تعلیمی اصلاحات کی حقیقت کا بھانڈا پھوڑ دیا،وزیر اعلیٰ پنجاب جنوبی پنجاب کے تعلیمی نظام پر برہم،صوبائی وزیر تعلیم سے رپورٹ اور وضاحت طلب کرلی۔ذرائع کے مطابق خفیہ مانیٹرنگ ٹیموں نے اپنی مفصل رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن اور دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ محکمہ ایجوکیشن کے متعدد امتحانی مراکز مبینہ طور پر “بوٹی مافیا” کے زیر اثر کام کر رہے ہیں، جہاں امتحانی ضابطوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض امتحانی مراکز میں ریٹائرڈ اساتذہ کو سپرنٹنڈنٹ جبکہ پسندیدہ افراد کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تعینات کیا گیاجس سے امتحانی شفافیت متاثر ہوئی۔خفیہ رپورٹ کے مطابق متعدد سرکاری سکولوں میں امتحان کے دوران اساتذہ کی غیر حاضری ریکارڈ کی گئی جبکہ بعض امتحانی مراکز میں مبینہ طور پر خفیہ کمروں کا انتظام کیا گیا جہاں امیدواروں کے پرچے حل کرائے جاتے رہے۔ ذرائع کے مطابق ایک پرچہ حل کرانے کے لیے مبینہ طور پر پانچ ہزار روپے فی پرچہ وصول کئے جانے کا انکشاف بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جو امیدوار مکمل نقل کی رقم ادا نہیں کرتے تھے، ان سے بھی مبینہ طور پر “معاونت” یا “سہولت” فراہم کرنے کے نام پر ایک ہزار روپے تک وصول کئے جاتے رہے، جبکہ بعض مراکز میں دوسری جماعت سے دسویں جماعت تک کے طلبہ سے امتحانی پرچوں کی چھپائی کے نام پر 250 سے 500 روپے فی طالب علم وصول کئے جانے کی بھی شکایات درج کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں جنوبی پنجاب، خصوصاً ضلع رحیم یار خان، کے امتحانی مراکز کے حوالے سے یہ سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ بعض امتحانی مراکز کی تعیناتی اور انتظام مبینہ طور پر لاکھوں روپے کے عوض کیا گیاجس کے نتیجے میں امتحانی نظام پر اثر انداز ہونے والے گروہوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچا۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام متعلقہ اضلاع کے امتحانی مراکز، تعیناتیوں، مالی معاملات اور امتحانی انتظامات کی اعلیٰ سطح، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ ذمہ دار افسران، اہلکاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔دوسری جانب خفیہ مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ٹیبل تک پہنچ چکی ہے ۔ محکمہ ایجوکیشن سے باخبر ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے صوبائی وزیر تعلیم،سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن اتھارٹی سے جنوبی پنجاب کے تعلیمی اداروں میں مالی ضابطگیوں،امتحانی سنٹروں پر نقل اور غیر افراد کی موجود پر رپورٹ اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں