ملتان ( کورٹ رپورٹر)ڈسٹرکٹ بار ملتان کے رکن عباس وسیر کی درخواستِ ضمانت مسترد ہونے پر وکلا نے شدید احتجاج کیا اور آج ججز کا بھی داخلہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وکلا نے ضلع کچہری کے تمام داخلی و خارجی دروازوں پر تالے لگا د یئے ۔ عدالتوں کی تالہ بندی کی وجہ سے متعدد ججز اور عدالتی عملہ عدالتوں میں محصور ہوکر رہ گیا۔وکلا نے کچہری میں شدید نعرے بازی کی اور اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے عدالتی کارروائی بری طرح متاثرہوئی۔بتایا گیا کہ عباس وسیر کو مذہبی منافرت پھیلانے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست سیشن عدالت نےمسترد کردی۔وکلا کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ عباس وسیر کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا اور میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا۔ جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ملک سعادت حسین نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ مطالبات کی منظوری اور عباس وسیر کی رہائی تک احتجاج اور تالہ بندی جاری رہے گی۔عدالتوں کے باہر وکلاء کی بڑی تعداد موجود رہی جس کی وجہ سے صورتحال کشیدہ ہوگئی پولیس کی بھاری نفری بھی ضلع کچہری پہنچ گئی مگر انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکرٹری ملک سعادت حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ ایڈووکیٹ عباس وسیر کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان کی ضمانت کی درخواست میرٹ کے برعکس مسترد کی گئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری اور عباس وسیر کی رہائی تک احتجاج اور عدالتوں کی تالہ بندی جاری رہے گی۔ 6 گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد پولیس اور وکلا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعد میں گیٹ کھولا گیا اور کئی گھنٹوں سے کچہری میں محصور ججز کو گھروں کو روانہ کیا گیا۔ وکلاء کے مطابق رات 12 بجے تک گرفتار وکیل عباس وسیر کی رہائی پر پیش رفت نہ ہوئی تو آج دوبارہ احتجاج کیا جائے گا اور کچہری کی دوبارہ مکمل تالہ بندی کی جائے گی۔







