لیاقت پور: 28 کروڑ سے زائد کے 21 ترقیاتی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر گھپلے

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ضلع کونسل کرپشن سکینڈل میں اہم انکشافات،تحصیل رحیم یارخان کی 14 ترقیاتی سکیموں کے بعد لیاقت پور تحصیل کے 28کروڑ35 لاکھ روپے کے21 ترقیاتی منصوبوں میں بھی کروڑوں کا غبن منظر عام پر آگیا،نئے سیوریج نظام، سیوریج سسٹم کی بحالی ،ٹف ٹائل اور نالیوں کے فل ریٹ ٹھیکے ایکسین ضلع کونسل اور سب انجینئرز نے من پسند ٹھیکیداروں کو الاٹ کروا کے بھاری کمیشن وصول کرکے سب اوکے کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کردی،ترقیاتی منصوبوں میں ایک درجن سے زائد منصوبے ادھورے،ٹھیکیدار فل پیمنٹ وصول کرکے غائب،افسران نے کروڑوں کے منصوبوں کروڑوں کی کرپشن کرکے بل پاس کروا کے حکومتی خزانے کو چونا لگا دیا۔تفصیل کے مطابق ضلع کونسل رحیم یار خان کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان پہنچانے کے الزامات کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحصیل رحیم یار خان کی 14 ترقیاتی سکیموں کے بعد اب تحصیل لیاقت پور کی مجموعی طور پر 28 کروڑ 35 لاکھ روپے مالیت کی 21 ترقیاتی اسکیمیں بھی سوالات کی زد میں آ گئی ہیں۔درخواست گزار شہریوں اور ذرائع کا دعویٰ ہے کہ متعدد منصوبے یا تو مکمل نہیں کئے گئے یا مقررہ معیار کے مطابق نہیں بنائے گئے، جبکہ بعض منصوبوں کی مکمل ادائیگیاں کیے جانے کے باوجود کام ادھورا چھوڑ دیا گیا،دستاویزات کے مطابق تحصیل لیاقت پور میں شامل 21 ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت 28 کروڑ 35 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے، جن میں شہر لیاقت پور میں سیوریج سسٹم کی تعمیر، بحالی، ٹف ٹائلز، سولنگ اور نالیوں کی تعمیر کے لیے 2 کروڑ روپے، یونین کونسل طلبانی میں 1 کروڑ 50 لاکھ روپے، ترکڑی اور ترنڈہ گرجاج میں 4 کروڑ روپے، چک نمبر 46/A میں 1 کروڑ روپے، جھوک غلام شاہ میں 70 لاکھ روپے، گل محمد لنگاہ میں 70 لاکھ روپے، دشتی میں 70 لاکھ روپے، ڈنڈن واٹ، دھارے واٹ اور کچھیل محمد خان میں 60 لاکھ روپے، محمد ڈاہا میں 70 لاکھ روپے، جن پور اور رندن میں 1 کروڑ 40 لاکھ روپے، ڈفلی کبیر خان میں 70 لاکھ روپے، احمد علی لَڑ میں 1 کروڑ 20 لاکھ روپے، اللہ آباد اور گھوکا میں 1 کروڑ 30 لاکھ روپے، طیب بلوچ، بیت آہیر اور نور والا میں 50 لاکھ روپے، پکا لاراں ڈسپنسری روڈ سے دربار ظہیر پیر تک میٹلڈ روڈ کی تعمیر کے لیے 2 کروڑ روپے، لیاقت پور روڈ سے مدینہ آئس فیکٹری اور مدرسہ سلطان المدارس خان بیلہ تک سڑک کی مرمت کے لیے 90 لاکھ روپے، نالہ موسانی میں 50 لاکھ روپے، امین آباد اور کوٹلہ نواب میں 4 کروڑ روپے، بستی دایت سے بستی ملک اسلم گبر، ترنڈہ میر خان تک سڑک کی تعمیر کے لیے 1 کروڑ 25 لاکھ روپے، گلانی اور شیڈانی میں 2 کروڑ روپے جبکہ خان بیلہ میں 70 لاکھ روپے مختص کیے گئے،شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ ان منصوبوں میں سے ایک درجن سے زائد منصوبے یا تو نامکمل ہیں یا ان پر انتہائی محدود کام کیا گیا، جبکہ بعض ٹھیکیدار مکمل ادائیگیاں وصول کرنے کے بعد مبینہ طور پر غائب ہو چکے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تمام منصوبوں کا غیر جانبدارانہ تکنیکی اور مالی آڈٹ کرایا جائے، ادائیگیوں کا ریکارڈ، پیمائش کی کتابیں (Measurement Books)، کمپلیشن سرٹیفکیٹس اور معیار کا جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں