امریکا ایران معاہدہ نافذ، پاکستان ثالث

اسلام آباد،تہران،وا شنگٹن(بیورورپورٹ،نیوزایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان ،وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پردستخط کردیئے۔ ا مر یکا اورایران معاہدہ نافذ ہوگیا،پاکستان نےبطور ثا لث دستخط کئے۔تفصیل کے مطابق امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے ہی دستخط کر دیئے ہیں اور یہ معاہدہ اب نافذ العمل ہو چکا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں صدر میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس کی ویڈیو وائٹ ہاؤس نے جاری کی۔دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے صدر مسعود پزشکیان کی تصاویر جاری کی گئیں جس میں وہ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کررہے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقت ور ایران کا پیغام ہےکہ امن باہمی احترام کے سائے میں حاصل کیا جائےگا۔ ایرانی صدر نے امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم بھی کیا۔ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کا متن ایرانی قوم کی آواز کی عکاسی ہے، ایرانی قوم نےدھمکی یا دباؤ کےسامنے اپنی عزتِ نفس اور خودمختاری کا سودا نہیں کیا، آج جو کچھ ہورہا ہے وہ ایرانی قوم کی استقامت،ثابت قدمی اور ذمہ دارانہ سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔علاوہ ازیںوزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ضامن دستخط کیے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر جاری ٹوئٹ میں معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے سفارتی حل کے عزم کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔دریں اثناامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے لیے ان سے محروم رہنا ’غیر منصفانہ‘ ہوگا۔پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’اگر دوسرے ممالک کے پاس یہ موجود ہیں تو ان کے پاس نہ ہونا کچھ حد تک غیر منصفانہ ہے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کے پاس میزائل ہیں تو متناسب حد تک ایران کے پاس بھی ان کا ہونا قابل قبول ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ تقریباً چار ماہ طویل تنازع کے خاتمے کے بعد بھی خلیج میں اپنی فوجی موجودگی کچھ عرصے تک برقرار رکھے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر تنقید کرنے والوں کو سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف کافی سخت مؤقف اختیار نہیں کر رہے، وہ یا تو حسد کا شکار ہیں، بدنیت ہیں یا پھر بے وقوف ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ بعض لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کے معاملے میں سختی کا مظاہرہ نہیں کیا، حالانکہ اسی دوران امریکی اسٹاک مارکیٹ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’یہ احمق لوگ، جو سمجھتے ہیں کہ میں ایران کے خلاف کافی سخت نہیں رہا، جبکہ اسٹاک مارکیٹ نئی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں، یا تو حسد کرتے ہیں، برے لوگ ہیں یا پھر بے وقوف ہیں۔دریں اثنابرسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے بعد امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکا کی مضبوط اور طاقتور پوزیشن کےنتیجے میں ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہونگے، ایران کےمعاہدے کی شرائط پرعمل نہ کرنے پرایک بار پھرسخت، مؤثر بحری ناکہ بندی نافذ کریں گے۔پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ یورپ کےبعض ممالک آبنائےہرمز میں سکیورٹی، بحری آپریشنزمیں زیادہ فعال کردارادا کرنےکےلیے تیارہیں۔علاوہ ازیںایران امریکا معاہدے کی تقریب سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے سوئس وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ منصوبےکے مطابق اعلیٰ حکام کی یہ ملاقات آج برگن اسٹاک میں ہوگی۔ سوئس وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا، ایران،پاکستان، قطراور دیگرمتعلقہ ممالک کے اعلیٰ حکام آج ملیں گے جبکہ معاہدےکے مطابق ابتدائی مذاکرات آج برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہوں گے۔ ادھرایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے معاہدے پر دستخط سے قبل سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ تفصیلی جائزے کےبعد فیصلہ کیا گیاکہ معاہدے پر دونوں صدور ورچوئل دستخط کریں، فیصلہ کیا کہ معاہدے پرکسی مخصوص مقام پر ملاقات کے بجائے ورچوئل دستخط کرلیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ ترین قیادت کےدستخط سےمعاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے، ماضی کے تجربے کو دیکھتے ہوئے یہ ہمارا ترجیحی آپشن تھا۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ دستخط کے فوری بعد 60 روزمیں دو اہم معاملات پر مذاکرات کیے جائیں گے، اہم معاملات، پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات ہیں۔ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران نے ابتدا ہی سےمؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ مرحلے میں جوہری مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا، ایران کا موقف تھا کہ پہلے مرحلےمیں توجہ صرف جنگ کے خاتمے پر مرکوز رکھی جائے گی۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران امریکا کے درمیان معاہدہ بدھ سے ہی مؤثر ہو چکا ہے، جنگ بندی کا ہدف حاصل کرلیا،اب اگلے مرحلے میں دیگر معاملات پر بات چیت ہوگی۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام امریکا کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا اور اس معاملے پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔وزیر اعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق اسلام آباد امن معاہدے پردستخط کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا، دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو 30 منٹ سے زائد جاری رہی۔وزیراعظم شہباز شریف نےصدر مسعود پزشکیان، ایرانی قیادت اورعوام کو تاریخی امن معاہدے پردستخط کی مبارکباد دی۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ ناصرف خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایرانی قوم کی تعمیرِنوکا باعث بنے گا، یہ معاہدہ پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بھی بنے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی پرتپاک احترام اورنیک تمناؤں کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے امن معاہدے پر دستخط کے ایرانی فیصلے کو سراہتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے کےلیے ایرانی قیادت کی کامیابی کی دعا کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ہر شعبے میں ایران کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔اعلامیے کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ دونوں شخصیات نے انتہائی مہارت، اخلاص اور دانشمندی سے ثالثی کے عمل کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کے اس عمل کو ایران ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا، مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران ہمیشہ یاد رکھے گا۔ایرانی صدر نے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کومزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دورے پر اتفاق کیا جبکہ آئندہ دنوں میں بھی مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں