چولستان، سابق ایم ڈیز، پروفیسر ملی بھگت، بنجر زمین قیمتی سے تبدیل، سرکار کو 55 کروڑ کا نقصان

ملتان (قوم انویسٹی گیشن سیل) چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دو سابق منیجنگ ڈائریکٹرز نے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیسر نذیر احمد بلوچ کی ملی بھگت سے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے بنجر قدیم، غیر آباد اور زیر زمین کڑوے پانی والی 12 مربع زمین جس کی قیمت دو لاکھ روپے فی مربع کے حساب سے زیادہ سے زیادہ 24 لاکھ روپے تھی، کا تبادلہ 15 لاکھ روپے فی ایکڑ والی نہری اور زیر زمین میٹھے پانے والی زمین کے ساتھ کرکے حکومت پنجاب کو 55 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا دیا۔ مذکورہ پروفیسر اور ان کی اہلیہ اس غیر قانونی الاٹ شدہ راضی میں سے چھ مربع زمین 15 سے 20 لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے فروخت کر چکے ہیں جبکہ باقی چھ مربع زمین ابھی بھی ان کے پاس ہے اور 10 مربع پر مزید ان کا قبضہ چلا آ رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 1951 میں گل محمد، جلہ، جمعہ، حبیب، نذر محمد اور غلام سرور اقوام شیخ کو چولستانی علاقہ دین گڑھ میں شاہی مزارع سکیم کے تحت مذکورہ اراضی کی الاٹمنٹ ہوئی جسے سابق ایم ڈی چولستان ڈ ویلپمنٹ اتھارٹی نعیم اقبال نے مبینہ طور پر پروفیسرنذیراحمدبلوچ سے بھاری ڈیل کے عوض اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اس بنجر غیر آباد اور زیر زمین کڑوے پانی والی زمین کو نہری پانی والی زمین میں چک نمبر 71 ڈی این بی کی قیمتی اراضی کے ساتھ تبدیل کر دیا اور اس طرح آٹھ سے 10 ہزار روپیہ ایکڑ والی زمین 15 سے 18 لاکھ روپے فی ایکڑ والی اراضی میں تبدیل کر دی گئی جس کا کسی بھی قانون کے تحت ایم ڈی کو اختیار نہ تھا۔ نعیم اقبال نامی ایم ڈی کے تبادلے کے بعد طارق محمود بخاری نے بطور ایم ڈی چارج سنبھالا تو مقامی چولستانی افراد کے گروپ نے میڈم تسنیم کوثر کے ہمراہ طارق محمود بخاری سے ملاقات کی اور انہیں اس فراڈ بارے آگاہ کیا۔ انہوں نے تحریری طور پر کمشنر سے اجازت لی اور رقبہ واپس لینے کی کارروائی کا آغاز کیا مگر اس دوران ان کے پروفیسر نذیر احمد بلوچ کے ساتھ معاملات طے پا گئے اور انہوں نے فائل کو دبائے رکھا ،ٹرانسفر ہوتے وقت فیصلہ پروفیسر نذیر بلوچ کے حق میں دے کر چارج چھوڑ دیا۔ اس فراڈ کی نشان دہی کے حوالے سے میڈم تسلیم کوثر کی وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے نام لکھی گئی درخواست کا مختصر متن اس طرح سے ہے۔

جناب مریم نواز شریف صاحبہ وزیر علیٰ پنجاب کارروائی برخلاف سابق ایم ڈی چولستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نعیم اقبال اور طارق محمود بخاری
1951 میں گل محمد ولد نذر محمد ،جلہ ولد اروعلی، جمع ولد نذرمحمد ،حبیب دلدار و علی، نذر محمد ولدار وعلی ،غلام سرور ولد نور محمد اقوام شیخ کو علاقہ چولستان میں دین گڑھ اور اس کے نوا ح میں تابع شاہی مزارع سکیم الاٹمنٹ ہوئی جو کہ بعد ازاں عدالت عالیہ لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ بہاولپور سے خارج ہوگئی تو متاثرین نے عدالت عالیہ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے کیس ایس ایم بی آر کو بھیج دیا۔ بورڈ اف ریونیو پنجاب لاہور میں کیس واپس آنے کے بعد مختلف ممبر کالونیزنے شاہی مزارع سکیم کی الاٹمنٹ کی سماعت کی۔ 2009 میں ممبر کالونیزریونیو پنجاب لاہور جاوید اختر نے شاہی مزارعین کے کیس کی فردا ًفردا ًسماعت شروع کی اور بعد سماعت سات جولائی 2009 کو ممبر کالونی نے مندرجہ بالا الاٹیان کی الاٹمنٹ کے کیس کو دین گڑھ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بنجر اور غیر آباد 12 مرلے رقبہ الاٹ کر دیا جس کی قیمت محض ڈیڑھ لاکھ فی مربع تھی کیونکہ زیر زمین پانی بھی کڑوا تھا۔ اس الاٹمنٹ کے فراڈ اور دھوکہ دہی کی شروعات اس وقت کی گئی جب پروفیسر نذیر احمد بلوچ نامی شخص نےالاٹیان جمعہ وغیرہ کی طرف سے ایک درخواست برائے عمل درآمد منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ بہاولپور کو گزاری۔ سابق ایم ڈی چولستان ترقیاتی ادارہ بہاولپور نعیم اقبال نے اپنے اختیارات کے خلاف 18 دسمبر 2016 کو دین گڑھ کے بجائے ان الاٹ ہائی کے عمل درآمد کا حکم چک نمبر 71 ڈی این بی تحصیل یزمان ضلع بہاولپور علاقہ چولستان میں کر دیا جہاں زیر زمین پانی بھی میٹھا اور نہری پانی بھی منظور شدہ تھا اور اس آباد رقبےکی قیمت 15 لاکھ فی ایکڑ تھی۔ اس طرح سابق ایم ڈی نعیم اقبال نے غیر قانونی طور پر 18 لاکھ روپے کی اراضی کو 55 کروڑ کی اراضی میں تبدیل کر دیا حالانکہ کسی بھی قانون کے تحت متبادلہ الاٹمنٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ایم ڈی سی ڈی اے متبادل الاٹمنٹ دے سکتا ہے نیز تبادلہ ا راضی کے اختیار مطابق دفعہ 17 کالونی ایکٹ صرف کمشنر کو حاصل ہے لیکن اس کیس میں نہ ہی کمیشن نے کسی قسم کی اجازت دی اور نہ ہی منیجنگ ڈائریکٹر چولستان ترقیاتی ادارہ بہاولپور نے اجازت طلب کی اس طرح یہ حکم مورخہ 18 دسمبر 2016 کو غیر قانونی اور خلاف ضابطہ اور اپنے اختیارات سے تجاوز ہیں۔ دو فروری 2011 کو پٹواری حلقہ اور گرداور حلقہ نے بھی رپورٹ کی رقبہ متذکرہ پرالاٹیاں فوت ہو چکے ہیں اور الاٹیان کی آڑ میں نذیر احمد بلوچ رقبہ پر قابض ہے۔ نئے منیجنگ ڈائریکٹر سی ڈی اے طارق محمود بخاری نے کیس کی درخواست پر سماعت شروع کر دی اور مسول علیہم کو طلب کیا ۔ریکارڈ ملاحظہ کیا اور پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد اور فراڈ یا دھوکہ دہی ثابت ہونے کے بعد منیجنگ ڈائریکٹر نے سات مارچ 2025 کو کمشنر بہاولپور کو ایک مراسلہ نمبر 240 ۔2011 ۔ 2025 بھیجا جس میں مندرجہ بالا افراد مسمیان جلہ ولد ارض علی وغیرہ کا حکم عملدرآمد 18 فروری 2016 کو بصیغہ نظر ثانی منسوخ کرنے کی اجازت کی گئی تو 9۔10۔2025 کو واضح طور پر اجازت نظر ثانی برائے منسوخی حکم دے دی جس پر نئے ایم ڈی چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی طارق محمود بخاری نے پروفیسر نذیر احمد بلوچ سے ڈیل کر کے فیصلہ ان کے حق میں اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کر کے دے دیا۔ اس طرح چولستان ترقیاتی ادارہ بہاولپور کے افسران سے ملی بھگت کر کے دین گڑھ اور اس سے ملحقہ 12 مربع بنجر اور ناقابل کاشت رقبہ کو 71 ڈی این بی میں اور نہری اربوں روپے مالیتی رقبہ سے تبدیل کروا لیا اور پھر افسران بالا کے ذریعے سے قانونی رنگ بھی چڑھا دیا ۔
جناب عالی: ایم ڈی چولستان طارق محمود بخاری کا یہ فعل انتہائی خلاف ضابطہ اور غیر قانونی ہے۔ ایم ڈی چولستان میں قبضہ مافیا اور فراڈ گروہ کی ملی بھگت سے تقریباً 50 کروڑ مالیتی سرکاری رقبہ کو دھوکہ دہی اور فراڈ سے ہڑپ کرنے میں سہولت مہیا کی ۔برائے مہربانی اس میں ملوث سابق ایم ڈی چولستان بہاولپور نعیم اقبال اور سابق ایم ڈی سی ڈی اے طارق محمود بخاری کے خلاف مجرمانہ غلط اور اختیارات سے تجاوز پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں