بہاولپور اراضی ریکارڈ سنٹر میں عدالتی حکم عدولی، فردیں جاری، رجسٹریاں، انتقالات بھی درج

بہاولپور (ڈپٹی بیورو رپورٹ) بہاولپور کے اراضی ریکارڈ سنٹر سے متعلق ایک اہم تنازع سامنے آیا ہے جس میں درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ عدالتی حکمِ امتناعی کے تحت کھاتہ بلاک ہونے اور تحریری ہدایات کے باوجود مبینہ طور پر بھاری رشوت کےعوض قیمتی پراپرٹیکی فردیں جاری کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ حیران کن طور پر ان کے اجرا کے بعد ان پر رجسٹریاں بھی کروا دی گئی ہیں جو کہ سراسر غیر قانونی ہیں اور کام یہی پر نہیں رکا بلکہ انتقالات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق چک نمبر 9 بی سی بہاولپور کے ایک مشترکہ کھاتے سے متعلق عدالتی کارروائی جاری ہے اور عدالت کی جانب سے حکمِ امتناعی بھی موجود ہے۔ اس معاملے پر درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اس نے اراضی ریکارڈ سینٹر میں باقاعدہ درخواست جمع کرائی تھی جس پر مبینہ طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ (اے ڈی ایل آر) میڈم حدیقہ اسلم نے کھاتہ بلاک ہونے کی صورت میں فرد جاری نہ کرنے کی ہدایت دی تھی اور درخواست کی وصولی کی رسید بھی جاری کی گئی تھی مگر اسکے باوجود بھی 20260611کو فرد آئی ڈی نمبر 19411جاری کی گئی اور اس فرد پر یہ لکھا گیا کہ اس کھاتہ پر کوئی حکم امتناعی جاری نہ ہے جو کہ سراسر اے ڈی ایل آر حدیقہ اسلم کی ملی بھگت اور ریکارڈ سینٹر کا عملہ ملوث ہے۔ درخواست گزار نےالزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ ہدایات اور عدالتی حکمِ امتناعی کے باوجود 11 جون 2026 کو بعض فردیں جاری کی گئیں اور متعدد رجسٹریوں و انتقالات کا اندراج کیا گیا۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ ریکارڈ پر یہ بھی درج کیا گیا تھا کہ متعلقہ کھاتے کے حوالے سے کوئی حکمِ امتناعی موجود نہیں، حالانکہ اس کے بقول عدالتی دستاویزات اور سٹے آرڈر نہ صرف موجود بلکہ درج تھے۔ درخواست گزار نے حلقہ پٹواری زمرد حسین، ایس سی او محمد عرفان اور دیگر متعلقہ اہلکاروں پر بھی مبینہ طور پر رجسٹریوں اور انتقالات کے اندراج میں گھنائونا کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق ایک شخص کو “مڈل مین” کے طور پر پیش کرکے بیانِ حلفی جمع کرایا گیا جس کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔متنازع انتقالات کی تفصیلات کے مطابق:انتقال نمبر 19409: طلعت یاسمین بحق مسرت بی بی، رقبہ ساڑھے سات مرلہانتقال نمبر 19410: طلعت یاسمین بحق اللہ دتہ، رقبہ 11 مرلہانتقال نمبر 19411: صابر حسین بحق محمد ریاض، رقبہ ساڑھے 12 مرلہدرخواست گزار کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکمِ امتناعی کے باوجود کی جانے والی کارروائیاں توہینِ عدالت کے زمرے میں آ سکتی ہیں، لہٰذا متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے خلاف مکمل تحقیقات کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور متنازع رجسٹریوں و انتقالات کو منسوخ کیا جائے۔متعلقہ حکام کا مؤقفاس معاملے پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ حدیقہ اسلم کا مؤقف بتایا جاتا ہے کہ بعض معاملات میں سب رجسٹرار اور تحصیلدار کے پاس بھی متعلقہ کمپیوٹر سسٹم تک رسائی موجود ہوتی ہے اور رجسٹریوں کے اندراج سے متعلق مختلف محکمے اپنے دائرہ اختیار میں کام کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ذمہ داری کے تعین کا معاملہ تحقیقات کا متقاضی ہے۔دوسری جانب سب رجسٹرار کے مؤقف کے مطابق رجسٹری کے لیے استعمال ہونے والی فردات اراضی ریکارڈ سینٹر سے جاری ہوتی ہیں اور ان کے مطابق حکمِ امتناعی یا تنازع سے متعلق معلومات بنیادی طور پر اراضی ریکارڈ کے نظام میں موجود ہوتی ہیں۔ سب رجسٹرار کے مطابق ان کے دفتر میں صرف وہی رجسٹریاں درج کی جا سکتی ہیں جو متعلقہ نظام میں کلیئر اور قابلِ اندراج ظاہر ہوں۔سب رجسٹرار نے مبینہ طور پر اس الزام کو بھی مسترد کیا ہے کہ ان کے دفتر نے جان بوجھ کر کسی عدالتی حکم یا تنازع کو نظر انداز کیا ہو، جبکہ اراضی ریکارڈ سینٹر اور دیگر متعلقہ دفاتر کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔تحقیقات کا مطالبہشہری حلقوں اور درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اگر عدالتی حکمِ امتناعی اور کھاتہ بلاک ہونے کے باوجود کوئی کارروائی ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اور قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

تحصیل بہاولپور رجسٹری برانچ میں فیسوں کی چوری، جعلساز نیٹ ورک متحرک

بہاولپور (سپیشل رپورٹر) تحصیل بہاولپور کی رجسٹری برانچ میں کرپشن، جعل سازی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا مبینہ میگا سکینڈل سامنے آگیا ہے ذرائع کے مطابق رجسٹری محرر نوازش علی نے مبینہ طور پر مفاد پرست عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے سرکاری فیسوں کی چوری اور جعلسازی کا ایک منظم نیٹ ورک بنا رکھا ہےتفصیلات کے مطابق، یہ مبینہ انکشاف ہوا ہے کہ رجسٹری محرر نوازش علی پارٹیوں سے ساز باز کر کے متعلقہ پٹواری کی مبینہ جعلی رپورٹ خود ہی تیار کر لیتا ہے جس پر پٹواری کے جعلی دستخط بھی کر دیے جاتے ہیں۔ اس گھناؤنے کھیل میں رجسٹری کے نقشے میں تعمیر شدہ مکانات کو جان بوجھ کرخالی پلاٹ ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ ایف بی آر کی کم شیڈول فیسیں جمع کروا کر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جائے اور بچائی گئی رقم مبینہ طور پر اپنی جیبوں میں ڈالی جا سکے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مبینہ مافیا کی جانب سے کم شیڈول فیسوں سے حاصل ہونے والی یہ حرام کمائی اوپر سے نیچے تک مبینہ طور پر تقسیم کی جاتی ہےاس تشویشناک صورتحال کے حوالے سے متعلقہ پٹواری نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے نہ تو کوئی ایسی رپورٹ کی ہے اور نہ ہی اسے اس متنازعہ رجسٹری کے بارے میں کوئی علم ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ صریحاً دھوکہ دہی، جعلسازی اور دو نمبری ہے جس پر باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج ہونی چاہیے۔ قانون کے مطابق یہ رجسٹری محرر کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ پٹواری کی رپورٹ کو باقاعدہ چیک کرے، لیکن مبینہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے نہ تو رپورٹ کی تصدیق کی جاتی ہے اور نہ ہی موقع کا ملاحظہ کیا جاتا ہے۔ذرائع نے انتہائی تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب یہ سنگین معاملہ ہائی لائٹ ہوا تو مبینہ طور پر حقائق کو دبانے کے لیے اس کی انکوائری تحصیلدار وسیم اکرم کیفی کے سپرد کر دی گئی۔ واضح رہے کہ پوری تحصیل میں عرضی نویسوں سے لے کر ملازمین تک یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تحصیلدار وسیم اکرم کیفی کے خلاف بھی متنازعہ رجسٹریاں منظور کرنے پر بڑے پیمانے پر خورد برد کی شکایات سامنے آ رہی تھیں جو کہ مختلف فورمز پر اٹھائی گئیں۔مبینہ ملی بھگت سے یہ سازش کی جا رہی ہے کہ کرپشن کا سارا ملبہ متعلقہ بے گناہ پٹواری پر ڈال دیا جائے تاکہ اصل ماسٹر مائنڈ رجسٹری محرر نوازش علی کو ہر صورت بچایا جا سکے۔ عوامی، سماجی اور قانونی حلقوں نے اعلیٰ حکام، اینٹی کرپشن اور چیئرمین ایف بی آر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ میگا سکینڈل کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں