ملتان( سپیشل رپورٹر) حکومت پنجاب کی ہدایات کے برعکس بیوروکریسی اور سرکاری مشینری پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ زندگی کے افراد کی اندر خانے کفالت سے ہاتھ نہیں اٹھا رہی اور صورتحال اس حد تک حیران کن ہے کہ ملتان کے حلقہ پی پی 159 سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے مدمقابل الیکشن لڑنے والے پی ٹی آئی رہنما مہر شرافت پر ہارٹیکلچر ایجنسی ملتان کی خصوصی نوازشیں جاری ہے اور انہیں بھاری کمیشن کے عوض ایڈورٹائزمنٹ فیس کی مد میں ساڑھے 11 کروڑ روپے سے زائد کا بل معاف کرنے کا اور ناجائز فائدہ پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے، مسلم لیگی ورکرز نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ہاؤسنگ سے خصوصی آڈٹ کروانے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ہارٹیکلچر ایجنسی ملتان کے ایڈورٹائزمنٹ کنٹریکٹر/ وینڈر مہر شرافت پر مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی پبلسٹی فیس کی مد میں 15 کروڑ 30 لاکھ روپے بنائےگئے مگر مہر شرافت نے مذکورہ بل کی ادائیگی سے انکار کر دیا جس پر ہارٹیکلچر ایجنسی انتظامیہ کی جانب سے ڈائریکٹر مارکیٹنگ کی سرپرستی میں ایک کمیٹی بنائی گئی جسے مہر شرافت کے بلز کی سکروٹنی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کمیٹی نے کنٹریکٹر کی جانب سے دیئے گئے بلز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وینڈر مہر شرافت سے صرف 3 کروڑ 75 لاکھ روپے ریکوری کی مد میں وصول کرتے ہوئے سرکار کو مبینہ طور پر ساڑھے 11 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا دیا۔ مہر شرافت جو کہ پاکستان تحریک انصاف کےمرکزی اور فعال رہنما ہیں، موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف کھلے عام تنقید کرتے ہیں مگر اس کے باوجود انہیں اتنے بڑے ریلیف پر غور سے سوالات اٹھ رہے ہیں، ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ ریکوری ایڈورٹائزمنٹ کنٹریکٹر کےبجائے براہ راست ہارٹیکلچر ایجنسی کے اکائونٹ میں وصول کی گئی۔ خرچ ہوئےچار کروڑ روپے کی فیس بنانے کے لئے کمیٹی ممبران کو بھی مبینہ طور نوازا گیا ، لیگی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ہاؤسنگ اور کمشنر ملتان سے مذکورہ وینڈر کو نوازنے بارے مکمل تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں روزنامہ قوم نے جب موقف کے لیے ڈائریکٹر مارکیٹنگ پی ایچ اے عدنان بٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کا جواب میری بجائے ادارے کے پی آر او سے لیں۔ پی آر او سے جب موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تو مالی سال ختم ہونے میں 13 دن باقی ہیں۔ رقم آ جائے گی فکر کی کوئی بات نہیں۔ یاد رہے کہ سابق ڈپٹی ڈائریکٹر پی ایچ اے محمد اسامہ کے خلاف اینٹی کرپشن میں اسی نوعیت کا کیس چل رہا ہے جس میں وہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔







